امریکی حملے؛ جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لئے تحمل سے کام لیا جائے: یورپی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ جوزپ بوریل نے ہفتے کے روز اسرائیل غزہ جنگ کے دوران تمام متعلقہ فریقوں کو مشورہ دیا ہے کہ مشرق وسطی کے مزید علاقوں میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں۔ جوزپ بوریل کا یہ بیان امریکہ کی طرف سے شام اور عراق میں ایرانی قدس فورس کے مراکز پر کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا ہر کسی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس دھماکہ خیز ہو چکی صورت حال کو مزید خطرناک بنانے سے گریز کرے۔ وہ برسلز میں یورپی یونین کے خارجہ وزراء کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

امریکہ کی طرف سے عراق اور شام میں ایران اور اس سے جڑے عسکری گروپوں کے خلاف جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کی گئی ان کارروائیوں کے بعد دھمکی دی ہے کہ ابھی اردن میں امریکی اڈے پر حملے کا مزید جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے اردن میں عسکری گروپ کے حملے میں امریکہ کے تین فوجی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ جس کے بعد امریکہ نے انتقام لینے کا اعلان کیا تھا۔

اس سلسلے میں یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ نے اپنے خطاب امریکہ یا اس کے حملوں کا ذکر نہیں کیا البتہ تحمل پر زور دیتے ہوئے کہا مشرق وسطی اس وقت ایک بوائلر بنا ہوا ہے۔ جو پھٹ سکتا ہے۔ اس لیے ہر کوئی تحمل دکھائے۔

انہوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی آمدو رفت کو محفوظ رکھنے لیے اپنے پچھلے ماہ سے شروع کیے گئے حفاظتی مزن کے حوالے سے کہا یورپی مشن جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ صرف دفاعی کارروائی کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں