ترکیہ: اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والے مزید 7 مشتبہ جاسوس گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے حکام نے جمعہ کے روز چھاپوں کے دوران 7 ایسے مشتبہ افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے جو مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کو اطلاعات کی فروخت میں ملوث تھے۔

پچھلے چند مہینوں میں ترکیہ میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والوں کے خلاف ایک مہم جاری ہے۔ جس کے تحت اب تک متعدد افراد حراست میں لیے ج اچکے ہیں۔ جمعہ کے روز کی یہ تازہ گرفتاریاں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

ترکیہ نے اس سے پہلے ہی اسرائیل کو خبردار کر رکھا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں کے مضمرات سنگین ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل ترکیہ میں حماس کے ممبران کی تلاش کے لیے اپنی سرگرمیاں تیز کیے ہوئے ہے۔ تاکہ غزہ سے باہر رہنے والے فلسطینی شہریوں اور حماس ممبران کا پیچھا کر سکے۔ واضح رہے 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران 27131 فلسطینیوں سے زائد کو بمباری سے ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے دوسرے ملکوں میں بھی حماس ممبران اور رہنماؤں کو نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔

ترکیہ فلسطینیوں کا ایک حامی ملک ہے اور اس نے مغربی ممالک کی طرح حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دے رکھا بلکہ اس مؤقف ہے کہ حماس ایک مزاحمتی فلسطینی تحریک کے طور پر اپنے جائز حق آزادی کے لیے کوشش کرنے والی ایک تنظیم ہے۔

ترکیہ کے سیکورٹی سے متعلق حکام نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی بنیاد پر بتایا کہ ترکیہ پولیس اور انٹیلی جنس ادارے ایم آئی ٹی نے استنبول اور ازمیر میں ایسی مشترکہ چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں جو ملک کے خلاف جاسوسی کرنے والوں کو حراست میں لینے کے لیے ہیں۔

جمعہ کے روز سے پہلے ماہ جنوری کے شروع میں ایک بڑی کارروائی کی گئی تھی جس میں دو درجن سے زائد مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے تھے۔

سرکاری ٹی وی ٹی آر ٹی نے جمعہ کے روز اپنے ایک نشریے میں بتایا کہ موساد ترکیہ میں اپنے نجی طور پر ہائر کیے گئے ایجنٹوں سے کام لے کر اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اسرائیلی ترجمان نے تازہ گرفتاریوں کے واقعے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں