العلا: ڈیزائنر رامی قاضی کے فیشن ڈیزائنز کی نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ڈیزائنر رامی قاضی نے موسم بہار اور موسم گرما کے 2024ء کے ہائی فیشن کلیکشن کا آغاز کیا جس کی فوٹو گرافی کے لیے اس نے تاریخی اور ثقافتی دولت سے مالا مال سعودی عرب کے العلا علاقے کا انتخاب کیا۔ یہ علاقہ عکاسی کی سب سے بڑی عمارت جسے "مرایا" کے نام دیا جاتا ہے بھی کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔

یہ مجموعہ کل ہفتے کو سوشل نیٹ ورکس پر رامی قاضی ہاؤس کے صفحات کے ذریعے پیش کیا گیا۔ اسے "مرایا" کا عنوان دیا گیا اور اس میں 32 پہناووں کے نمونے شامل ہیں جو العلا کے لامتناہی افق میں الہام کے ذرائع تلاش کرتے ہیں۔ اس کی دیوار شیشوں سے بنائی گئی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی عکاس عمارت تصور کی جاتی ہے جو روشنی اور سائے کے درمیان تعامل پیدا کرتی ہے۔

سعودی ڈیزائنررامی قاضی نے موسم بہار اور موسم گرما کے 2024ء کے ہائی فیشن کلیکشن کی رونمائی کر دی

یہ مجموعہ صحرائی پودوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہے، جنہیں سخت حالات میں زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ صحرائی پھولوں کو پرتعیش ڈیزائنوں کو سجانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ چمکتی ہوئی سیکوئنز اور موتیوں کی مالا بھی ہیں۔ لباس کو قدیم نقاشی سے متاثر نمونوں سے بھی سجایا گیا تھا جو العلا کے پتھریلے راستوں کی زینت سمجھے جاتے تھے۔

مرایا کی چمک رامی قاضی کے ڈیزائنوں میں ایک خوبصورت انداز میں جھلک رہی ہے جبکہ غیر متناسب کٹس نے ڈیزائنوں میں ایک جدید کردار کا اضافہ کیا۔

ملبوسات کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کو ان کے سیال کردار اور دھاتی لمس سے پہچانا جاتا ہےجبکہ ننگے کندھوں والے ڈیزائن اور کمر کے پتلے پن کی وضاحت کرنے والے ڈیزائن بھی نمائش میں موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں