امتحان میں نقل کرنے والی خاتون رکن پارلیمنٹ کا وکیل کیس کی پیروی سے دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں لاء کے امتحان میں مبینہ طورپر نقل کرتے پکڑی جانے والی خاتون رُکن پارلیمنٹ نشویٰ رائف کے وکیل نے اس کے کیس کی پیروی سے انکار کردیا ہے۔

خاتون رکن پارلیمنٹ کو امتحان میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے اور خاتون پروفیسرکو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد پارلیمنٹ نے اسے حاصل آئینی تحفظ ختم کردیا تھا اور اس کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کی گئی تھی۔

خاتون رکن پارلیمنٹ کے وکیل اور ماہر قانون گو ڈاکٹر ڈاکٹر ہشام البدری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ اس کیس سے دستبردار ہو گئے ہیں۔تاہم انہوں نے اس ہائی پروفائل کیس کی پیروی ترک کرنے کی وجوہات بیان نہیں کیں۔

واقعے کی تحقیقات کے دوران یونیورسٹی کی پروفیسر جسے خاتون پارلیمینٹرین نے زدو کوب کیا تھا نے بتایا کہ وہ اس وقت یہ دیکھ کرحیران رہ گئی تھیں کہ خاتون کے حجاب کے نیچے کان میں ایک وائرلیس ہیڈ سیٹ تھا۔ یہ اس کے کپڑوں میں موجود ایک ڈیوائس سے جڑا ہوا تھا۔

تلاشی دینے سے انکار

یونیورسٹی کی پروفیسرنے کہا کہ طالبہ نے تلاشی دینے اور دھوکہ دہی کا آلہ دینے سے انکار کردیا۔اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے کپڑوں کے نیچے شوگر کٹ تھی۔

خاتون پروفیسر نےمزید کہا کہ اس نے رکن پارلیمنٹ سے ہیڈسیٹ نکال کر امتحان کا پرچہ دینے کو کہا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس نے اسے دھکا دیا جس کی وجہ سے میں ایک طالبہ پر گری اور اس نے کمیٹی کے مانیٹر کو بھی دھکا دیا۔

کیس ایتھکس کمیٹی کو ریفر کیا گیا

اس واقعے کی تحقیقات پارلیمنٹ کے اسپیکر حنفی جبالی کے اس اعلان کے چند دن بعد ہوئی ہیں جس میں انہوں نے کہا تھاکہ خاتون رکن پارلیمنٹ کا کیس اخلاقیات کمیٹی کے پاس بھیجا جائے گا تاکہ اس بات کی تحقیقات کی جا سکیں کہ اس سے منسوب الزام میں وہ کس حد تک قصور وار ہے۔

خیال رہے کہ مصر کی ساؤتھ ویلی یونیورسٹی میں قانون کی فیکلٹی کے امتحان کے دوران ایک طالبہ کوایئرفون آلے کی مدد سے امتحان کے پرچے میں نقل کرتے پکڑا گیا تھا جس کے بعد پورے ملک میں اس واقعے نے تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں