بحیرہ احمر میں کشیدگی: نہر سویز کی آمدنی میں تقریباً 50 فیصد کمی

ماہ جنوری 2023 میں نہر سویز سے ماہانہ آمدنی 804 ملین ڈالر ہوئی تھی جبکہ جنوری 2024 میں یہ آمدنی کم ہو کر 428 ملین ڈالر رہ گئی: اسامہ ربیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی نہر سویز میں جہاز رانی کا سلسلہ متاثر ہونے کی وجہ سے ماہ جنوری میں آمدنی کی سطح تقریباً 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ یمن کے حوثیوں کی وجہ سے بحیرہ احمر میں حملوں کے بعد سے تجارتی جہازوں کی متاثرہ آمد ورفت ہے۔

مصری ٹی وی کے مطابق نہر سویز اتھارٹی کے سربراہ اسامہ ربیع کا کہنا ہے کہ 'ماہ جنوری 2023 میں نہر سویز سے ماہانہ آمدنی 804 ملین ڈالر ہوئی تھی جبکہ جنوری 2024 میں یہ آمدنی کم ہو کر 428 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔ نہر سویز سے گزرنے والے جہازوں میں 36 فیسد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔'

نہر سویز کی آمدنی میں اس کمی نے شمالی افریقہ کے اہم ملک مصر کے لیے پریشانی پیدا کر دی ہے۔ جو پچھلے کئی برسوں سے اقتصادی بحران کا ساممنا کر رہا ہے۔ اب غزہ میں جنگ کی وجہ سے اس کی تجارت اور سیاحت دونوں کے لیے نئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ کیونکہ بحیرہ احمر اس وقت اسرائیل کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے اکتوبر میں شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد سے اسرائیل کے اتحادیوں کے اہداف کے علاوہ تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔ جبکہ امریکہ اور دیگر اسرائیلی اتحادیوں نے سات اکتوبر کے فوری بعد سے اس بحری علاقے میں اپنی فوجی قوت کو بڑھا دیا تھا اور اب یمنی حوثیوں کو سمندر سے نشانہ بنا رہے ہیں اور گاہے گاہے ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔

واضح رہے نہر سویز ایشیا سے یورپ جانے کے لیے مختصر ترین بحری راستہ ہے اور اس وجہ سے بہت مصروف بحری راستہ بھی ہے۔ مصر کے لیے قیمتی زر مبادلہ کا اہم ذریعہ ہے۔ سال 2023 میں مصر کو اس بحری راستے سے 10 اعشاریہ 25 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی۔

اسامہ ربیع نے کہا 'یہ پہلا موقع ہے کہ نہر سویز کو اس طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے پہلے ہم پچھلے مہینے کے مقابلے میں ہر ماہ زیادہ آمدنی حاصل کر رہے تھے اور اسی طرح پچھلے برسوں میں بھی اوسطاً آمدنی زیادہ رہی ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں