برطانیہ: فلسطینیوں کے حامی مظاہرین کو جنگی یادگاروں پر چڑھنے پر سزا دینے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانیہ نے فلسطینیوں اور غزہ میں جنگ بندی کے حق میں حالیہ مہینوں سے جاری عوامی مظاہروں کو روکنے کے لیے نیا قانون بنانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ غزہ میں جنگ بندی کے حامیوں اور اسرائیل مخالف عوامی مظاہروں کے دوران جنگی یادگاروں پر چڑھنے والے مظاہرین کو نئے مجوزہ قانون کے تحت تین ماہ تک کی سزائے قید اور 1000 پاؤند جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

بتایا گیا ہے کہ برطانوی حکومت ایک نیا فوجداری قانون بنانا چاہتی ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے قانون کا سہارا لے سکے۔ وزیر قانون برطانیہ جیمز کلیورلے نے حال میں ان مطاہرین کو ایک چھوٹی سی اقلیت قرار دیا تھا جو نقصان کا باعث بن رہی ہے۔

وزیر داخلہ نے اتوار کے روز کہا ' احتجاج اور مظاہرے کرنا قانون کے مطابق بنیادی حق ہے مگر جنگی یادگاروں پر چڑھنا ہماری یادگاروں کی توہین کے مترادف ہے۔ اسے جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔'

واضح رہے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بچوں اور عوارتوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی ہلاکتوں کے خلاف برطانیہ سمیت مغربی دنیا کے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے مطاہرے لندن اور یورپی دنیا کے دوسرے تمام بڑے شہروں کے علاوہ امریکہ میں بھی مسلسل دیکھنے میں آرہے ہیں۔

یہ مظاہر متعلق حکومتوں کی اسرائیل کی حمایت میں پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف رائے عامہ کا ایک واضح اطہار ہے۔ اس بارے میں امریکی جوبائیڈن انتظامیہ کو ان دنوں کافی عوامی تنقید کا سامنا ہے۔ کہ غزہ میں اب تک 27365 فلسطینی ہلاک اور 23 لاکھ کے قریب بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں