بھارت میں اخوندجی مسجد شہید؛ گیان واپی مسجد میں پوجا کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت میں انتخابات نزدیک آتے ہی مساجد اور مسلمانوں کے قبرستان بھی مودی سرکار کے نشانے پر آ گئے، بابری مسجد کے ملبے پر مندر کے افتتاح کے بعد نئی دہلی کی تاریخی ’اخوندجی مسجد‘ کو بھی گرا دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں مودی سرکار انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کے بنیادی حقوق غصب کرنے لگی، جمہوریت کی دعویدار مودی سرکار بھارت میں قائم مساجد کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگی۔

نئی دہلی کی مساجد کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے قبرستان بھی ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر آ گئے۔

نئی دہلی میں صدیوں پرانی اخوندجی مسجد کو مودی سرکار نے منہدم کر دیا، ہندو انتہا پسندوں نے مسجد سے ملحقہ قبرستان میں قبروں اور قرآن پاک کے نسخوں کی بھی بے حرمتی کی۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی قبروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، قبروں کی اس حد تک بےحرمتی کی گئی کہ کفن اور میتیں بھی نظر آ رہی ہیں۔

امام مسجد نے بتایا کہ اس جگہ کو خالی کرنے کا کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا، بھارتی فوج بلڈوزر کے ساتھ زبردستی مسجد کے احاطے میں داخل ہوئی اور ہمیں کہا کہ یہ جگہ خالی کردو، انہوں نے ہم سے کہا کہ یہ دہلی ڈویلپمنٹ کی زمین ہے، ہمارے پاس کاغذات ہیں۔

بھارت کے شہر وارانسی میں گیان واپی مسجد [پیچھے]  کے جلو میں واقع کاشی وشوناتھ مندر میں ہندو [دائیں] پوچا پاٹ کے لیے داخلے کی قطار میں کھڑے ہیں:  جلیس اندرابی/اے ایف پی
بھارت کے شہر وارانسی میں گیان واپی مسجد [پیچھے] کے جلو میں واقع کاشی وشوناتھ مندر میں ہندو [دائیں] پوچا پاٹ کے لیے داخلے کی قطار میں کھڑے ہیں: جلیس اندرابی/اے ایف پی

گیان واپی مسجد میں پوجا پاٹ کی مذمت

جماعت اسلامی ہند نے ڈی ڈی اے کی مہرولی میں 600 سالہ پرانی اخوند جی مسجد کے انہدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس مسجد میں ایک مدرسے (بحر العلوم) کے علاوہ قابل احترام شخصیات کی قبریں بھی تھیں اور انہدام کی کارروائی کو عوام کی نظروں سے چھپانے کے لیے بڑی ہوشیاری کے ساتھ وہاں سے ملبہ ہٹایا گیا۔ ’کارروائی کرنے والے اہلکاروں نے مدرسہ میں زیر تعلیم طلبا کے سامان کی بھی توڑ پھوڑ کی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جماعت ’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991‘ کی پابندی کرنے کی پرزور حمایت کرتی ہے، جس کی توثیق سپریم کورٹ بھی کر چکی ہے۔’یہ ایکٹ عوامی عبادت گاہوں کے مذہبی کردار کو 15 اگست 1947 کی حیثیت پر برقرار رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انڈین حکومت کو اس ایکٹ کی پُر زور حمایت کرنی چاہیے اور اعلان کرنا چاہے کہ وہ اس پر مکمل طور پر عمل کرنے کی پابند ہے۔

اتوار کو دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر ملک معتصم خان کا مزید کہنا تھا کہ ’وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے اس کام کے لیے انتظامیہ کو سات دن کا وقت دیا تھا، اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ بہت جلد بازی میں تھی اور چاہتی تھی کہ انجمن انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے اس آئین مخالف اور حیران کن فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے سے قبل پوجا پاٹ کی راہ ہموار کر دے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ دلیل دی کہ 1993 تک گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں پوجا کی جا رہی تھی مگر اس وقت کی ریاستی حکومت کے حکم پر اسے روکا گیا۔‘

انہوں نے اسے ایک غلط دلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ حالات سے ناواقفیت کی بنا پر دی گئی، سچائی تو یہ ہے کہ تہہ خانے میں کبھی کوئی پوجا ہوئی اور نہ ہی اس کا کوئی ثبوت ہے۔‘

متعصم خان کے بقول ’جماعت ایسے واقعات کی پرزور مذمت کرتی ہے کیونکہ ان سے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو متھرا کی شاہی عید گاہ، دہلی کی سنہری مسجد اور ملک کی دیگر متعدد مساجد اور وقف املاک پر غیرمنطقی و بے بنیاد دعوے کر رہے ہیں۔‘

خیال رہے یکم فروری کو وارانسی کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے گیان واپی مسجد کے تہہ خانے میں ہندوؤں کو پوجا کرنے کی اجازت دیتے ہوئے انتظامیہ کو اس کے لیے انتظامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں