فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی جنگ کے اثرات جرمنی کے گلی کوچوں میں، ایک طالب علم کے ہاتھوں دوسرا زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک کالج سٹوڈنٹ نے دوسرے کو اسرائیلی جنگ کی حمایت کے ایشو پر بحث کے بعد مار مار کر زخمی کر دیا ۔ زخمی سٹوڈنٹ کو ہسپتال داخل ہونا پڑگیا ، جہاں اس کے چہرے کی ہڈی ٹوٹنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

زخمی کرنے والا سٹوڈنٹ اپنے گھر سے گرفتار کر لیا گیا ۔تاہم دونوں کی مکمل شناخت بتانے سے جرمنی کی پولیس نے گریز کیا ہے۔ گرفتار کیے گئے سٹوڈنٹ کے سمارٹ فون کو پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے۔ بحث کا آغا ز سوشل میڈیا پر زخمی ہوجانے والے سٹوڈنٹ کی اسرائیلی جنگ کی حمایت میں پوسٹوں سے ہوا۔ بعد ازاں یہ بحث لڑائی میں بدل گئی۔

بتایا گیا ہے کہ ایک 30 سالہ یہودی سٹوڈنٹ جمعہ کی رات کے وقت گھر سے باہر بلن کے پڑوسی علاقے مٹے میں تھا ۔ جب اس کے سامنے ایک 23 سالہ سٹوڈنٹ آگیا ۔ یہ 23 سالہ سٹوڈنٹ اسرائیل کی غزہ میں بمباری کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں بولنے لگا۔ اس پر دونوں میں گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔

یوں بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی ۔ زخمی سٹوڈنٹ کے پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق 23 سالہ ستوڈنٹ نے 30 سالہ سٹوڈنٹ کو مکے مار کر نیچے گرا دیا۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اس نے اسے پاؤں سے ٹھوکریں بھی لگائیں اور پھر منظر سے کھسک گیا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ 30 سالہ جنگ کے حامی سٹودنٹ نے جنگ مخالف سے لرائی میں اسے کتنا مارا یا نقصان پہنچایا ہے۔

زخمی ہونے پر 30 سالہ سٹوڈنت کو ہسپتال لایا گیا جس کے چہرے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی بتائی گئی ہے۔ تاہم ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اس کی زندگی کوکوئی خطرہ نہیں ہے۔ پولس نے 23 سالہ سٹوڈنٹ کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا ہے اور اس کا سمارٹ فون قبضے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس نے دونوں سٹوڈنٹس کے نام اور شہریت کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ زخمی کرنےوالے گرفتار سٹوڈنٹ کی مذہبی شناخت بھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ البتہ اس واقعے کو سات اکتوبر سے جاری اسرائیل کی غزہ میں جنگ سے جوڑا ہے کہ اس جنگ کے بعد سے یہود مخالف واقعات میں مغربی دنیا میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں