حطان السیف: ایم ایم اے میں معاہدہ کرنے والی پہلی سعودی خاتون سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

بائیس سالہ حطان السیف نے عالمی مکسڈ مارشل آرٹس پروموشن کے ساتھ معاہدہ کرنے والی پہلی سعودی خاتون بننے کا اعزاز حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔

پروفیشنل فائٹرز لیگ (پی ایف ایل) نے ایک خصوصی، کئی مقابلوں پر مشتمل معاہدے پر فائٹر کے تاریخی دستخط کا اعلان کیا اور کہا کہ سعودی خاتون اس سال کے آخر میں کمپنی کے ساتھ اپنی بہت متوقع شروعات کریں گی۔

انہوں نے العربیہ کو ایک انٹرویو میں بتایا، "میں حیرت انگیز سے بہت بڑھ کر محسوس کرتی ہوں۔ میرے پاس ایک بکِٹ لسٹ ہے جو میں اپنے فون میں رکھتی ہوں اور اس فہرست میں ایک چیز پیشہ ور ایم ایم اے فائٹر بننا تھی۔"

"جب مجھے پی ایف ایل میں شامل ہونے کا موقع ملا تو میں نے اسے بلاجھجک قبول کر لیا۔ میں اس کھیل میں داخل ہونے کے لیے کچھ بھی کرنے اور سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوں۔"

لڑائی میں سکون کی تلاش

صرف 10 سال کی عمر میں یتیم ہو جانے والی السیف نے کہا کہ وہ بہت زیادہ غصہ اور درد محسوس کرتی تھیں جس کا کوئی حل نہیں تھا۔ انہوں نے کئی سال مختلف مشاغل میں سکون تلاش کرنے کی کوشش میں گذارے۔

انہوں نے کہا، "مجھے کبھی کھیل پسند نہیں تھا۔ میں نے آرٹ آزمایا۔ میں نے کھانا پکانے کی کوشش کی۔ میں کسی حد تک خاموش، پرسکون انسان تھی۔ لیکن زندگی نے بہت سے چیلنجز پیش کیے اور اس نے مجھے اپنی ایک نئی شخصیت بنانے پر مجبور کیا۔ مجھے زیادہ جارحانہ اور متشدد اور ایک ایسا شخص بننے پر مجبور کیا گیا جو مشکلات کو سنبھالنے کے قابل ہو۔"

"میں اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکتی تھی اور میں اسے بہت زیادہ محسوس کرتی تھی۔"

اتفاق سے انہیں سعودی ایم ایم اے فائٹر اور چیمپئن عبداللہ القحطانی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ملا۔ ایتھلیٹ سے لڑاک لڑائی کے بارے میں مزید جاننے اور یہ محسوس کرنے کے بعد نوجوان خاتون نے اس کھیل کو آزمایاکہ یہ انہیں وہ راستہ مہیا کر سکتا تھاجس کی انہیں اپنے جذبات کو باہر نکالنے کے لیے ضرورت تھی۔

اس کے بعد سے انہوں نے پلٹ کر پیچھے نہ دیکھا۔ اور موئے تھائی چیمپئن شپ میں بریک تھرو فیمیل ایتھلیٹ کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی جنگی کھیلوں اور ریاض میں منعقدہ سعودی گیمز دونوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

یہ فائٹر اب مملکت میں خواتین فائٹرز کے لیے نیا میدان بنائیں گی۔

چیلنجز کا اپنا سیٹ

سعودی خاتون نےکہا کہ لڑاکا کھیلوں کی دنیا میں داخل ہونے پر سب سے پہلے کھیل کے اپنے ہی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

السیف نے العربیہ کو بتایا، "مجھے بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہ سعودی عرب میں عام طور پر ایک نیا کھیل ہے۔ مجھے شروع میں بہت زیادہ حمایت نہیں ملی۔ کچھ لوگ کہتے تھے، 'تم لڑکی ہو، یہ تمہاری جگہ نہیں ہے،' یا 'تم میں اب نسوانیت نہیں رہے گی،' یا 'یہ تمہارے لیے نہیں ہے۔"

ان کے مطابق کچھ لوگ - خواہ وہ سعودی عرب میں ہوں یا بیرونِ ملک - اب بھی اس بارے میں کچھ غلط فہمیاں رکھتے ہیں کہ خواتین کیا کر سکتی ہیں اور کیا نہیں اور انہیں کیسا نظر آنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا، "میں صرف سعودی عرب میں یہ نقطۂ نظر نہیں دیکھتی بلکہ مغرب اور بیرونی ممالک میں بھی۔ ایسے لوگوں کا ایک چھوٹا سا حصہ اب بھی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ لڑاکا کھیل خواتین کے لیے نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں عورتوں کو نرم اور نسائی ہونا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ خواتین کو جسمانی طور پر طاقتور نہیں ہونا چاہیے اور انہیں پسینہ نہیں آنا چاہیے۔"

22 سالہ نوجوان ان کے فیصلے اور سوچ کو مسترد کرنے کو ترجیح دیتی ہیں اور خود کو ایک یا دوسری چیز تک محدود نہیں رکھتیں۔ ال سیف نے کہا کہ وہ نیل پالش لگا سکتی ہیں اور پھر باکسنگ کے دستانے پہن کر رنگ میں سخت مقابلہ کر سکتی ہیں۔

"ہم دونوں بن سکتے ہیں۔ میں ایک عورت بن سکتی ہوں اور مضبوط ہو سکتی ہوں۔ اگر میں نسائی ہوں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ میں کمزور ہوں۔"

تاہم کھلاڑی کے مطابق یہ ذہنیت آہستہ آہستہ تبدیل ہونے لگی ہے خاص طور پر جب زیادہ خواتین کھیلوں کے شعبے میں داخل ہو رہی ہیں۔

سعودی عرب میں خواتین نے حالیہ برسوں میں کافی ترقی کی ہے۔ مملکت 330,000 سے زیادہ رجسٹرڈ خواتین ایتھلیٹس کا گھر ہے۔

"وقت کے ساتھ لوگ زیادہ قبول کر رہے ہیں۔ سال بہ سال ہم مزید خواتین کو باکسنگ، موئے تھائی، جیو جیٹسو اور ہر دوسرے کھیل میں شامل ہوتے دیکھ رہے ہیں جس کے بارے میں آپ سوچ سکتے ہیں۔ خواتین ہر چیز میں حصہ لے رہی ہیں اور اس لیے آپ کو بہت سے لوگ نہیں ملیں گے جو کہتے ہیں 'یہ قابلِ قبول نہیں ہے'۔

ایک حمایتی نظام ہونا

السیف نے العربیہ کو بتایا کہ ایک کامیاب ایتھلیٹ بننے کا اہم ترین عنصر صحیح لوگوں کو اپنے اردگرد رکھنا ہے۔

نوجوان خاتون اپنی بڑھتی ہوئی طاقت اور عزم کو اس تربیت کی مرہونِ منت سمجھتی ہیں جو وہ القحطانی کے جم میں حاصل کر رہی ہیں جہاں وہ مرد اور خواتین فائٹرز کے ساتھ مل کر لڑتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "میرے ارد گرد ایک ٹیم اور ایک کمیونٹی ہے جو میری بہت مدد کرتی ہے۔"

"ایک چیز جس نے مجھے عالمی چیمپئن بننے میں مدد کی وہ یہ تھی کہ میں مرد فائٹرز کے ساتھ بھی تربیت کر رہی تھا۔ اس کا ان کے بہتر ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ عورت اور مرد ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات جب آپ صرف خواتین فائٹرز کے اردگرد ہوتے ہیں تو وہ آپ پر اتنی سخت نہیں ہوتیں۔ ہم صرف ایک دوسرے کے ساتھ مہربان ہوتی ہیں۔"

انہوں نے وضاحت کی، "مردوں کے ساتھ۔۔ وہ آپ کو سخت جان بننا سکھاتے ہیں اور آپ زیادہ جارحانہ اور سخت ہو جاتے ہیں۔"

السیف نے کہا، اس سپورٹ سسٹم کا ہونا اور خود پر یقین رکھنا آپ کو بہت آگے لے جاتا ہے۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا، "ایک ایسی چیز ہے جو میں ہمیشہ خود سے کہتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ خدا کسی کو اس سے زیادہ نہیں دیتا جتنا وہ سنبھال سکے۔ مشکل ترین لڑائیاں مضبوط ترین سپاہیوں کے لیے ہوتی ہیں۔ میں خود کو ایسا ہی دیکھتی ہوں اور جانتی ہوں کہ میں کچھ بھی سنبھال سکتی ہوں۔"

"میں گر سکتی ہوں اور رو سکتی ہوں لیکن میں ہمیشہ جاری رکھتی ہوں۔ میں دستانے سے اپنے آنسو پونچھتی ہوں اور کام جاری رکھتی ہوں۔ آنسو، خون، یا زخموں کی کوئی بھی مقدار نہیں جو مجھے روک سکے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں