سابق امریکی صدر ٹرمپ کے قاسم سلیمانی قتل میں نئے انکشافات

سابق امریکی صدر نے اردن حملے کے بارے میں کہا کہ اگر میں صدر ہوتا تو ملیشیا ہمارے 3 فوجیوں کو قتل نہ کرتی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز، ایرانی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بارے میں نئی تفصیلات کا انکشاف کیا۔ قاسم سلیمانی 2020 کے اوائل میں عراق میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گ‏ئے تھے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، ٹرمپ نے بتایا کہ اسرائیل سلیمانی کو قتل کرنے کے منصوبے کا حصہ تھا، لیکن اسرائیل حملے سے عین پہلے پیچھے ہٹ گیا۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’’جب ہم سلیمانی کو قتل کرنے لگے تو اسرائیل بھی ہمارے ساتھ یہ کام کرنے والا تھا۔ لیکن آپریشن سے دو دن پہلے، بینجمن نیتن یاہو نے کہا، "ہم ایسا نہیں کر سکتے"۔

ٹرمپ نے کہا کہ: "میرا ایک خاص جنرل تھا، اور وہ بہت اچھا تھا، اور میں نے اس سے کہا: 'کیا اب ہم یہ خود کر سکتے ہیں؟' اس نے کہا: 'سر، ہم کر سکتے ہیں، یہ آپ پر منحصر ہے۔' اور میں نے کہا: ' ہم کریں گے۔''

اس سے قبل 2021 میں ، ایکسیوس نے ٹرمپ کے بیانات شائع کیے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ توقع کرتے تھے کہ اسرائیل اور نیتن یاہو اس عمل میں زیادہ فعال ہوتے۔ اس بات کا اشارہ دیتے ہوئے کہ وہ مستقبل میں پوری کہانی کو ظاہر کریں گے۔

"اسرائیل نے صحیح کام نہیں کیا،" ٹرمپ نے اپنی کتاب "پیس ٹرمپ" کے لیے انٹرویو میں ابراہیم معاہد اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں ایک انٹرویو میں کہا۔ "میں اس کہانی کے بارے میں بات نہیں کر سکتا،" انہوں نے مزید کہا۔ "لیکن میں بہت مایوس تھا۔" "لوگ وقت آنے پر اس کے بارے میں سنیں گے۔"

نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ کی اس حملے کے لیے تعریف کی تھی جس میں جنوری 2020 میں بااثر جنرل کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے اس وقت صحافیوں کو بتایا: "عزم، طاقت اور رفتار کے ساتھ کام کرنے کے لیے ٹرمپ مکمل کریڈٹ کے مستحق ہیں، اور ہم سلامتی، امن اور اپنے دفاع کے لیے ان کی منصفانہ لڑائی میں مکمل طور پر امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔"

اردن میں امریکی اڈے پر حالیہ حملے کے بارے میں، جس میں 3 امریکی فوجی ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران نواز مسلح ملیشیاؤں کی جانب سے امریکی افواج پر گذشتہ ہفتے کیے گئے حملے پہلے ایسے نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی انتظامیہ کے تحت اٹھائے گئے اقدامات نے تہران کو کسی بھی حملے سے پہلے واشنگٹن کو مطلع کرنے پر مجبور کیا تاکہ کسی بڑی کشیدگی سے بچا جا سکے۔

انہوں نے سلیمانی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: "ایرانیوں نے مجھے فون کیا اور کہا، جناب صدر، ہمیں سخت حملے کا جواب دینا لازم ہے مگر ہم آپ کے کسی فوجی کو نہیں ماریں گے۔"

ٹرمپ نے مزید کہا، " میں ان کے ردعمل کو سمجھتا تھا کہ انہیں اپنے لوگوں کے لیے لڑنے کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے انہیں مطلع کیا تھا کہ وہ 16 میزائل داغیں گے اور عراق میں نشانہ بنائے گئے اڈے پر کسی امریکی فوجی کونہیں ماریں گے۔

ایرانی حکام نے کہا کہ انہیں اپنے اڈوں سے نہیں ہٹنا چاہیے اور وہ محفوظ رہیں گے۔

اس حملے میں "کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا تھا، حالانکہ انہوں نے 18 میزائل داغے، اور امریکی میڈیا حیران تھا کہ کیسے کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں