مغربی کنارے میں پرتشدد اسرائیلی آباد کاروں اور حماس کے رہنماؤں پر پابندی عائد:کینیڈا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کینیڈا کی وزیرِ خارجہ میلانیا جولی نے اتوار کو کہا کہ ان کا ملک مغربی کنارے میں تشدد کو ہوا دینے والے اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرے گا اور حماس کے رہنماؤں پر نئی پابندیاں متعارف کرائے گا۔ امریکہ کی جانب سے گذشتہ ہفتے اسی طرح کی کارروائی کی گئی تھی۔

جمعرات کو امریکہ نے مقبوضہ علاقے میں تشدد میں ملوث ہونے کے الزام میں چار اسرائیلی آدمیوں پر پابندی لگا دی۔

اتوار کو کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ساتھ ایک انٹرویو میں جولی نے کہا کہ کچھ آباد کاروں پر "پابندی لگائی جائے گی" اور "ہم حماس کے رہنماؤں پر بھی نئی پابندیاں لائیں گے۔"

جولی نے یوکرین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، "ہم اس پر سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔ میں اس بات کو یقینی بنا رہی ہوں کہ جب میں یوکرین میں ہوں تو کام اوٹاوا میں ہوتا رہے اور میں جلد ہی ایک اعلان کرنے کی منتظر ہوں۔"

کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے جمعہ کو کہا کہ وہ مغربی کنارے میں "انتہا پسند" آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے تھے۔

1967 کی شرقِ اوسط جنگ کے بعد سے اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے جسے فلسطینی ایک آزاد ریاست کے مرکز کے طور پر چاہتے ہیں۔ اس نے وہاں یہودی بستیاں تعمیر کی ہیں جنہیں زیادہ تر ممالک غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے اور زمین سے تاریخی اور بائبل کے تعلقات کا حوالہ دیتا ہے۔

حماس کے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے سے پہلے 18 مہینوں میں مغربی کنارے نے پہلے ہی کئی عشروں میں بدامنی کی بلند ترین سطح دیکھی تھی۔ غزہ پر اسرائیلی افواج کی جوابی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے وہاں تصادم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں