پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے استنبول میں فائرنگ کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے استنبول میں کورٹ ہاؤس کمپلیکس پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اپنے برادر ملک ترکیہ اور اس کے عوام کے ساتھ اپنی پختہ یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔

منگل کو ترکیہ کے کورٹ ہاؤس کمپلیکس پر حملے کے بعد دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ترکی کے برادر عوام اور حکومت سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور اس گھناؤنے حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہماری دعائیں اور ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں ترکیہ کے ساتھ اپنی پختہ یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے ۔

ادھر سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ترکیہ کے شہر استنبول میں فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اس طرح کی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت نے ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کے خلاف مملکت کے موقف کا اعادہ کیا ہے۔

بیان میں ہلاک ہونے والوں کے خاندان، حکومت اور برادر ترک عوم سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ ترکیہ میں پولیس نے منگل کو بائیں بازو کی ایک مبینہ ’دہشت گرد‘ تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، ان دونوں نے استنبول کی مرکزی عدالت کے باہر ایک سکیورٹی چوکی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے کہا ہے کہ حملہ آور انقلابی پیپلز لبریشن پارٹی فرنٹ (ڈی ایچ کے پی-سی) کے ارکان تھے، جو بائیں بازو کا ایک انتہا پسند گروپ ہے جو 1980 کی دہائی سے ترکی میں وقفے وقفے سے حملے کرتا رہا ہے۔

گروپ نے ابتدائی طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم یرلیکایا نے ایک سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ہے تین پولیس افسران اور تین شہریوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں