غزہ میں جنگ بندی مذاکرات کا نیا دور جمعرات کو قاہرہ میں ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر اور قطر کے تعاون سے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے دو طرفہ تبادلے کے سلسلے میں مذاکرات کا ایک اور دور قاہرہ میں شروع ہو رہا ہے۔

یہ بات مصر کے سرکاری ذرائع سے سامنے آئی ہے۔ حماس کے ذرائع نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں معاہدہ کرنے کے ایجنڈے سے متفق ہیں اور انہیں قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کت متعلق اطلاع ہے۔

اس سے قبل حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے پیرس مذاکرات کے نتائج پر مبنی تجاویز سامنے آنے کے بعد کہا تھا کہ انہیں اب مذاکرات کے اگلے دور کے لیے قاہرہ جانا ہو گا۔

بدھ کے روز مصری حکام اور حماس کے ذرائع نے اگرچہ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تاہم دونوں طرف سے مذاکرات کے جمعرات کے روز شروع ہونے کی تصدیق کی ہے تاکہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کی حتمی سبیل پیدا ہو سکے۔

مصری حکام نے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ فریقین مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری لچک کا مظاہرہ کریں تاکہ غزہ میں جنگ بندی ممکن ہو جائے۔ غزہ میں اب تک لگ بھگ 28 ہزار فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں یہ ہلاکتیں چار ماہ کی جنگ کے دوران ہوئیں اور اب جنگ پانچویں مہینے میں داخل ہوگئی ہے۔

مصری ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مصر کی کوششیں جنگ بندی کے لیے مسلسل جاری ہیں۔ یاد رہے پچھلے ہفتے حماس کے ذرائع نے بتایا تھا کہ چھ ہفتے کی جنگ بندی کی تجویز سامنے آئی ہے نیز اس دوران قیدیوں کے تبادلے کا اہتمام ہوگا اور غزہ کے لوگوں کے امدادی سامان کی ترسیل کے امکانات طے کیے جائیں گے۔

ایک روز پہلے منگل کے روز مصر اور قطر کے طرف سے کہا گیا تھا کہ پیرس مذاکرات میں مرتب کی جانے والی تجاویز پر حماسں نے مثبت رد عمل دیا ہے۔ قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی کے مطابق حماس کے جواب میں بعض چیزوں پر ریماکس دیے گئے تاہم مجموعی طور پر رد عمل مثبت ہی رہا۔

دوسری جانب اسرائیل میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے حماس کے جواب کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں اور غزہ کی جنگ بندی کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی دو طرفہ رہائی کے امور زیر بحث آئے۔ بلنکن آج کل مشرق وسطیٰ کے پانچویں دورے پر ہیں۔ ان کے یہ پانچ دورے چار ماہ کی مدت میں ممکن بنائے گئے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ابھی حماس کے جواب پر کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا ہے البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ جنگ کے بارے میں اسرائیل کا ارادہ ابھی تبدیل نہیں ہوا ہے ان کے الفاظ ہیں 'ہم مکمل فتح کے راستے پر ہیں اور ہم جنگ نہیں روکیں گے'۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں