میکرون کی فرانسیسی متأثرین کی تقریب میں حماس کے حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

صدر ایمانوئل میکرون نے بدھ کے روز سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کو "ہماری صدی کا سب سے بڑا یہود مخالف قتلِ عام" قرار دیا جب وہ فرانسیسی متأثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تقریب کے میزبانی تھے۔

حماس کے ہاتھوں ہلاک شدہ یا یرغمال بنائے گئے افراد کی تصاویر میکرون کے گارڈز کے ارکان نے اٹھا رکھی تھیں جبکہ ان کے اہلِ خانہ دیکھ رہے تھے جو اس حملے کی نشان دہی کے لیے اسرائیل سے باہر منعقد ہونے والی واحد ریاستی تقریب تھی۔

میکرون نے فلسطینی گروپ کے حملے کو "بربریت... جس کی بنیاد یہود دشمنی ہے اور وہ اس کا پرچار کرتی ہے" کے طور پر بیان کیا اور "بڑے پیمانے پر اور بلا روک ٹوک سام دشمنی" کے سامنے شکست تسلیم نہ کرنے کا عہد کیا۔

پیرس کے اِنویلی ڈیز میموریل کمپلیکس میں منعقدہ تقریب میں حماس کے اسرائیل پر حملے میں ہلاک ہونے والے 42 فرانسیسی اور تین دیگر لاپتہ شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں یرغمال بنایا گیا ہے۔

14 جولائی 2016 کو جنوبی شہر نیس میں ایک انتہا پسند کے ٹرک حملے میں 86 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد سے یہ فرانسیسی شہریوں کا سب سے بڑا جانی نقصان تھا۔

میکرون نے کہا کہ فرانس باقی ماندہ فرانسیسی مغویوں کی رہائی کے لیے "ہر روز" کام کرے گا۔ انہوں نے تقریب میں کہا، "ان کی خالی کرسیاں وہاں ہیں۔"

انہوں نے کہا، "کوئی بھی چیز دہشت گردی کو جواز یا معافی نہیں دے سکتی۔"

'امن کی خواہشات'

ایوانِ صدر نے بغیر کوئی تاریخ بتائے اس ہفتے یہ بھی کہا تھا کہ فلسطینی گروپ کے حملے کے بعد غزہ پر جو اسرائیلی بمباری ہوئی، فرانس اس میں ہلاک ہونے والے فرانسیسی شہریوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

میکرون نے جنگ کو "تکلیف کا طوفان" قرار دیتے ہوئے کہا، "تمام زندگیاں برابر ہیں، فرانس کی نظر میں انمول ہیں۔"

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ فرانس "بدلہ کے جذبے کو کبھی بھی ترقی نہیں پانے دے گا" اور یہ کہ "ان چیلنجوں میں کوئی چیز ہمیں تقسیم نہ کرے"۔

انہوں نے کہا کہ فرانس شرقِ اوسط میں ہر ایک کے لیے امن اور سلامتی کی خواہشات کا جواب دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

ایک وائلن نواز نے فرانسیسی موسیقار موریس ریول کی یہودی کدش دعا کا سازینہ پیش کیا جب ایک اسکرین پر متأثرین کے نام روشن ہو رہے تھے۔

فرانس جس میں ایک بڑی مسلم اقلیت بھی ہے، یورپی یہودی کانگریس کے مطابق 500,000 افراد کے ساتھ یورپ کی سب سے بڑی یہودی برادری ہے اور اسرائیل میں اس کے تقریباً 100,000 شہری ہیں جن میں سے اکثر کی اسرائیلی شہریت بھی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون (درمیان) سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے 42 فرانسیسی شہریوں اور تمام متأثرین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک تقریب میں شریک ہیں۔ (اے ایف پی)
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون (درمیان) سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے 42 فرانسیسی شہریوں اور تمام متأثرین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک تقریب میں شریک ہیں۔ (اے ایف پی)

غزہ کی اب تک کی سب سے خونریز جنگ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر بے مثال حملے کے ساتھ شروع ہوئی جس کے نتیجے میں تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

مزاحمت کاروں نے 250 کے قریب یرغمالیوں کو بھی پکڑ لیا۔ اسرائیل کہتا ہے کہ 132 غزہ میں باقی ہیں جن میں سے 29 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے حماس کو ختم کرنے کا عزم کیا اور فضائی حملے اور زمینی کارروائی کی جس میں محصور علاقے میں کم از کم 27,585 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

'شدید جذبات'

تقریب پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اور حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے فرانسیسی شہریوں کے بہت سے خاندانوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ سخت بائیں بازو کی فرانس ان بوڈ پارٹی (ایل ایف آئی) کی شخصیات کو تقریب میں نہیں دیکھنا چاہتے اور یہ الزام لگایا کہ وہ اس حملے کی مذمت کرنے اور حماس کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دینے میں ناکام رہی ہے۔

ایک صدارتی اہلکار نے کہا کہ پروٹوکول کے مطابق تمام اراکین پارلیمنٹ کو تقریب میں مدعو کیا گیا تھا اور یہ "ہر کسی پر منحصر ہے کہ وہ ان کی موجودگی کے مناسب ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لیں کیونکہ اہلِ خانہ نے بات کی اور شدید جذبات کا اظہار کیا۔"

ایل ایف آئی کی اہم شخصیات بشمول کوآرڈینیٹر مینوئل بومپارڈ اور پارلیمانی چیف میتھیلڈ پینوٹ دونوں موجود تھے۔ جب وہ بڑی اسکرین پر نمودار ہوئے تو باہر جمع ہونے والے عوام نے ان کے خلاف برہمی کا اظہار کیا۔

انتہائی دائیں بازو کے رہنما میرین لی پین اور جارڈن بارڈیلا بھی موجود تھے جو حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ یکجہتی پر زور دینے کے لیے پہنچ گئے تھے۔

پارلیمنٹ میں فرانس کی بائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت ایل ایف آئی نے کہا کہ میکرون کے لیے یہ بھی مناسب ہوگا کہ وہ غزہ پر اسرائیل کی بمباری میں ہلاک ہونے والے فرانسیسی شہریوں کی یادگاری تقریب کی میزبانی کریں۔

غزہ کے اندر ہلاک ہونے والے فرانسیسی شہریوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔

تاہم حکام نے 31 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہاں دو فرانسیسی بچے مارے گئے تھے۔ اس کیس کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی والدہ دہشت گردی سے متعلق الزامات پر بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری کا شکار تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں