حوثیوں اور صومالی قزاقوں کے درمیان گھری آبنائے باب المندب اتنی اہم کیوں ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جب سے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے شروع کیے ہیں، آبنائے باب المندب کی تزویراتی اہمیت کے بارے میں تحقیق میں اضافہ ہوا ہے۔

باب المندب ایک طرف حوثیوں اور دوسری طرف صومالی قزاقوں کے درمیان گھری ایک آبی گذرگاہ ہے۔ حوثیوں اور صومالی قذاقوں کی وجہ سے آبنائے باب المندب میں خطرات بڑھ رہے ہیں۔

حوثیوں کے حملے

حال ہی میں باب المندب اور بحیرہ احمر میں عام طور پر یمن میں حوثیوں کے تجارتی بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ سے ایک بڑا عالمی تجارتی راستہ منقطع ہو گیا۔

حوثیوں نے سمندر سے گذرنے والے متعلقہ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیل کی طرف جا رہے تھے۔

صومالی قزاق

باب المندب کے دوسرے کنارے پر صومالی میرین پولیس نے اپنی سابقہ زندگی کی طرف لوٹنے والے قزاقوں کا تعاقب کرنے کے لیے اپنی گشت تیز کر دی ہے۔

سنہ 2010ء اور 2015ء کے درمیان بحری جہازوں پر ان کے حملوں کی تعداد 350 سے زیادہ تھی، لیکن اس کے بعد سے ان میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکی بحریہ اور دیگر اتحادی بحریہ کا گشت ہے۔

محل وقوع

جہاں تک باب المندب کے محل وقوع کا تعلق ہےتو یہ بحیرہ احمر کے جنوبی گیٹ وے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسے خلیج عدن، بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملاتا ہے اور یہ ایشا اور یورپ کے درمیان مختصر ترین اور کم لاگت والے سمندری راستے کے طور پر مشہور ہے۔

آبنائے کی اہمیت

آبنائے باب المندب سٹریٹجک، اقتصادی اور فوجی اہمیت کی حامل جگہ ہے، جس کی وجہ سے یہ پوری تاریخ میں علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کا میدان بنا رہا ہے۔

یہ آبنائے ایشیائی جانب یمن سے اور افریقی جانب جبوتی سے ملتی ہے۔ یہ ایک قدرتی آبی گذرگاہ ہے جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو جوڑتی ہے۔ اس کی چوڑائی تقریباً 30 کلومیٹر ہے۔

یمنی جزیرہ بریم جنوبی آبنائے باب المندب کے داخلی راستے پر واقع ہے۔ یہ جزیرہ آبنائے کو دو چینلوں میں تقسیم کرتا ہے۔ پہلا "اسکندر" چینل ہے، جسے دونوں چینلوں میں چھوٹا سمجھا جاتا ہے۔ یہ مشرق میں واقع ہے۔ یمنی سرزمین کے ساتھ ساتھ اس کی چوڑائی 3 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ گہرائی 30 میٹر ہے، جب کہ دوسرے چینل کو "دقہ المایون" کہا جاتا ہے۔ "یہ سب سے بڑی نہر ہے۔ یہ مغرب میں واقع ہے جو افریقی ساحل سے متصل ہے۔ یہ تقریباً 25 کلومیٹر چوڑا اور 310 میٹر گہرا ہے۔

نہر سویز نے اس کی اہمیت میں اضافہ کیا

آبنائے باب المندب کی اہمیت 1869 میں سوئز کینال کے کھلنے کے ساتھ بڑھ گئی، کیونکہ یہ مشرقی ایشیا اور یورپ کو ملانے والے چھوٹے سمندری راستے کے اہم لنکس میں سے ایک بن گئی۔

آبنائے باب المندب توانائی کے وسائل کی منتقلی کے لحاظ سے دنیا میں آبنائے ملاکا اور ہرمز کے بعد تیسرے نمبر پر ہے، جہاں سے خلیج عرب سے تیل اور قدرتی گیس کی زیادہ تر برآمدات نہر سویز یا سومیڈ پائپ لائن سے گذرتی ہیں۔ اس سے گذرنے والے بحری جہازوں کی تعداد کا تخمینہ سالانہ 21 ہزار سے زائد ہے جو کہ یومیہ 57 جہازوں کے برابر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں