سعودی عرب میں مقامی سطح پر تیار کردہ ڈرونز کی نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب جدید سامان حرب وضرب کی تیاری میں خود کفالت کی منزل کی طرف تیزی کے ساتھ گامزن ہے۔ مملکت میں پہلی بار مقامی سطح پر تیار کیے گئے جاسوس ڈرونز کی نمائش کی گئی جو اس میدان میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

مطلوبہ جاسوسی کے کاموں کو انجام دینے کے لیے قابل ذکر صلاحیتوں کے حامل سعودی ڈرونز کی دارالحکومت ریاض کے شمال میں عالمی دفاعی نمائش میں نمائش کی گئی۔ ان ڈرونز میں "العنقا - آصف 1 - آصف 2 - ھبوب سمووم جیسے ڈرونز شامل ہیں۔

یہ واضح ہو گیا ہے کہ سعودی عرب کی خصوصی قومی کمپنیوں کی شراکت سے ڈرون کی صنعت کو ترقی دینے کے بعد انہیں ہسپانیہ ، جنوبی افریقہ اور ترکیہ جیسے کئی ممالک کو برآمد کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

الریاض کے علاقے "ملھم" میں منعقدہ بین الاقوامی دفاعی نمائش میں ان کی ڈرونز کی شمولیت مملکت کی اس میدان میں مثبت ترقی کا ثبوت ہے۔

العنقا کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین سطام القرقاح نے کہا کہ "ہم نے حکومتی اداروں کے لیے کئی طیارے بنائے ہیں۔ ان میں فوجی ،تجارتی اور ترقیاتی فریم ورک کے لیے تیار کیے گئے طیارے شامل ہیں۔ الیکٹرسٹی کمپنی نے "العنقا ڈرونز" نیٹ ورک کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ہائی وولٹیج برقی ٹاورز کو برقرار رکھنے کے لیے100 ملین ریال سے زیادہ کی بچت میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "العنقا" نے 25 پیٹنٹ حاصل کیے ہیں، جب کہ ترکیہ نے ان میں سے ایک قابل ذکر تعداد درآمد کی ہے اور ان طیاروں کو ترکیہ میں "مرمرہ" کے نام سے مشہور بندرگاہ پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ڈرونز کی خریداری کی بہت زیادہ مانگ کے نتیجے میں حکومت نے گذشتہ سال چین سے سول استعمال کے لیے 20 لاکھ ڈرونز درآمد کیے۔

ایئر سسٹمز کمپنی کے سی ای او سلطان البریکان نے کہا کہ ڈرون مینوفیکچرنگ کا شعبہ ایک امید افزا سیکٹر ہے اور کمپنیوں کے لیے پرکشش کاروبار بن گیا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پرائیویٹ فیکٹری میں اپنے کام کے دوران انہوں نے "BB 2" طیارہ اور دیگر ہوابازی کا نظام تیار کیا تھا۔ البریکان کے بیان کے مطابق اس طیارے کی پرواز کی حد 10 تک گھنٹے اور 200 کلومیٹر تک کی کمیونیکیشن رینج کے علاوہ 5000 میٹر تک کی اونچائی پر پرواز کرسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں