سعودی وزیرِ دفاع کا یمن کی حمایت کے لیے مملکت کے عزم کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے پیغام رسانی کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ انھوں نے بدھ کے روز یمن کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹم لینڈرکنگ سے ملاقات کی اور یمن کی حمایت اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کے لیے مملکت کے عزم کا اعادہ کیا۔

سعودی عرب کے وزیرِ دفاع اور پینٹاگون کے سربراہ نے پیر کو شرقِ اوسط میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات کرنے کے لیے ایک کال کی کیونکہ امریکہ اور ایرانی حمایت یافتہ پراکسیز پورے خطے میں ایک دوسرے سے بدلہ لینے کے لیے حملے کر رہی ہیں۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "لائیڈ آسٹن کے ساتھ ایک کال کے دوران ہم نے اپنے تزویراتی سعودی-امریکہ تعلقات اور اپنے دفاعی تعاون کو بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔ ہم نے حالیہ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفتوں کے بارے میں گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔"

پیر کے روز یہ کال شرقِ اوسط کے لیے اعلیٰ امریکی فوجی جنرل کی سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض الرویلی سے ملاقات کے بعد ہوئی ہے جس میں فوجی اور دفاعی تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر بات چیت کی گئی۔

سعودی وزارتِ دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل ایرک کوریلا نے مملکت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں