طاقتور جرمن فضائی دفاعی فریگیٹ یورپی یونین کے بحیرۂ احمر مشن میں شمولیت کے لیے روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جرمنی نے جمعرات کو ایک طاقتور فضائی دفاعی فریگیٹ بحیرۂ احمر میں یورپی یونین کے بحری مشن میں شامل ہونے کے لیے بھیجا۔ یہ مشن تجارتی جہازوں کو یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے حملوں سے بچانے کے لیے فروری کے وسط میں شروع کیا جائے گا۔

بہت سی تجارتی جہازراں کمپنیوں نے حوثیوں کے حملوں کے بعد جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے جو یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ یہ حملے اسرائیل-حماس جنگ کی وجہ سے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کر رہے ہیں۔

جرمن بحریہ کے سربراہ وائس ایڈمرل جان کرسچن کاک نے برلن میں صحافیوں کو بتایا، "آزاد سمندری تجارتی راستے ہماری صنعت اور ہماری دفاع کی صلاحیت کی بنیاد ہیں۔"

انہوں نے کہا، "بحیرۂ احمر کی موجودہ صورتِ حال نے پہلے ہی سپلائی میں رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں اور کچھ کمپنیوں کو اپنی پیداوار بند کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔" اور کہا کہ تمام سامانِ تجارت کا 90 فیصد بحری راستے سے جرمنی اور یورپ پہنچتا تھا۔

ریاست ہائے متحدہ اور دیگر ممالک نے دسمبر میں اس خدشے کو دور کرنے کے لیے ایک مشن کا آغاز کیا کہ دنیا کے سب سے بڑی تجارتی راستوں میں سے ایک میں رکاوٹ عالمی معیشت کو متأثر کر سکتی تھی۔

لیکن کچھ امریکی اتحادیوں بالخصوص یورپی ممالک نے اس منصوبے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے جس میں امریکہ اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں اور واشنگٹن کی کمان کے تحت ہونے کا خیال مسترد کر دیا ہے۔

فرانس، یونان اور اٹلی ان ممالک میں شامل ہیں جو ایسپائڈیز نامی یورپی یونین کے مشن میں حصہ لیں گے جس کا مطلب ہے محافظ اور اس میں ابتدائی طور پر یورپی یونین کی کمان میں تین جہاز ہوں گے۔

انہیں تجارتی جہازوں کی حفاظت اور حملوں کو روکنے کا پابند کیا جائے گا لیکن وہ حوثیوں کے خلاف زمین پرحملوں میں حصہ نہیں لیں گے۔

جرمن فریگیٹ ہیس بحیرۂ احمر جانے کے لیے اپنی شمالی سمندری بندرگاہ ولہلم شیون سے روانہ ہو گیا لیکن اس مشن میں اس کی شرکت اب بھی یورپی یونین کے مینڈیٹ اور فروری کے آخر میں متوقع قومی پارلیمانی منظوری پر منحصر ہے۔

یہ جہاز فضائی دفاع کے لیے بنایا گیا ہے جو ریڈارز سے مزین ہے جو 400 کلومیٹر (248 میل) تک کے اہداف کا پتہ لگا سکتا ہے اور یہ 160 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک بیلسٹک میزائل اور ڈرون جیسے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل سے لیس ہے۔

کاک نے کہا، "ہم وسیع رینج کے بیلسٹک میزائلوں سے لے کر۔۔ ڈرونز اور ریموٹ کنٹرول والی کشتیوں تک کامیکاز موڈ میں براہِ راست اور بالواسطہ حملوں کے پورے سلسلے کی توقع کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں