مشرق وسطیٰ

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی ہمیشہ خطے کے لیے تباہ کن رہی ہے: رئیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج اور امریکی فوجی اڈوں کی کی موجودگی کو پورے خطے کے لیے خطرناک اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی انقلاب کی 12 فروری کو منائی جانے والی 45 ویں سالگرہ سے محض چار دن قبل ایرانی صدر نے خطے میں امریکہ پر ایک نیا وار کیا ہے۔ تہران میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ابراہیم رئیسی نے کہا ' ہمارے خطے میں امریکی افواج کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے۔

امریکی افواج کی خطے میں اس وقت موجودگی کے علاوہ ماضی میں تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے عراق، شام اور افغانستان کا بھی ذکر کیا۔ ابراہیم رئیسی نے کہا کسی بھی طور امریکی افواج نے خطے کو سلامتی نہیں دی ہے بلکہ سلامتی کو خطرے میں ہی ڈالا ہے۔

ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ سمیت کئی اعلیٰ سفارتکار خطے میں سر گرم ہیں۔ ان میں سے انٹونی بلنکن سات اکتوبر 2023 کے بعد مشرق وسطیٰ کے پانچویں دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد غزہ میں جنگ بندی اور دونوں طرف کے قیدیوں کی رہائی بتایا جاتا ہے۔

علاقائی سطح پر غزہ میں جنگ کے بعد کشیدگی کا ماحول ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ شام،لبنان، عراق اور یمن میں متحرک ہیں لیکن ان کے حملوں اور یمن ۔ شام اور عراق میں امریکہ و برطانیہ کے مشترکہ حملوں نے صورت حال کو کافی سنگین بنا دیا ہے۔

دو اطراف سے بمباری اور ڈرون حملوں نے ببے یقینی میں اضافہ کیا ہے۔ عراق اور شام میں اگرچہ امریکی افواج 2014 سے موجود ہیں تا کہ داعش کا مقابلہ کر سکے ۔ لیکن اب اس کی کارروائیوں کا نشانہ داعش سے ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپ بنے ہوئے ہیں۔ 28 جنوری کو اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی حملوں کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔

ایران یمن کی طرح عراق اور شام پر امریکی حملوں کی بھی سخت مذمت کرتا ہے۔ صدر رئیسی نے امریکہ کی مذمت کرتے ہوئے 'اسلامو فوبیا' کے انداز کی ایک اور اصطلاح ' ایرانو فوبیا' متعارف کرائی کہ امریکہ 'ایرانو فوبیا' کا شکار ہے۔ خیال رہے 1980 سے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں