اسرائیلی فوج غزہ میں آپریشن کے دوران اپنی حدود سے تجاوز کر رہا ہے: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کی پٹی میں حماس کی طرف سے اسرائیل کے خلاف شروع کیے گئے حملے کے جواب میں اسرائیلی فوجی ردعمل کو "ضرورت سے زیادہ" اور حد سےتجاوز ردعمل قرار دیا۔

جمعرات کی شام وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بائیڈن نے غزہ کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "میرے خیال میں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، غزہ میں اسرائیلی ردعمل بہت زیادہ اور اپنی حدود سے تجاوز پر مبنی ہے"۔

بائیڈن نے کہا کہ "میں اب غزہ میں پائیدار جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے سخت دباؤ ڈال رہا ہوں"۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے جنگ کے آغاز سے ہی شہریوں پر اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کافی کوششیں کی تھیں۔

بائیڈن نے کہا کہ مصری صدرعبدالفتاح السیسی پہلے تو رفح کے راستے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دینے کے لیے کراسنگ کھولنا نہیں چاہتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے ان سے بات کی اور انہیں کراسنگ کھولنے کے لیے راضی کیا۔ میں نے بی بی (اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو) سے بات کی کہ وہ اسرائیل کی طرف کراسنگ کھولیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے سختی سے زور دے رہا ہوں"۔

امریکی حکام نے اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں شہریوں میں ہونے والے انسانی نقصانات کے حوالے سے اب تک اپنی سخت ترین تنقید کا آغاز کیا۔ امریکا نے غزہ میں رفح کے علاقے میں اسرائیلی فوجی کارروائی کی تیاریوں کی مخالفت کی ہے۔

خیال رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز سے ہی امریکا نے اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا تاہم کئی مواقع پر امریکا نے اسرائیلی کارروائیوں پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں