بھارت میں مذہبی گروہ پر فائرنگ کے دوران دو مسلمان ہلاک اور درجنوں زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت میں مسلمانوں کے ایک مذہبی تعلیمی ادارے کو بلڈوزروں سے مسمار کرنے پر مذہبی تصادم شروع ہوگیا۔ یہ بلوہ شمالی ہندوستان کے علاقے مسلمانوں کے تعلیمی ادارے پر اس حملے کے نتیجے کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے جبکہ درجنوں کس زخمی کر دیا گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اگلے مہینوں لوک سبھا کے انتخابات سے قبل اس طرح کے واقعات کا خطرہ بڑھا ہوا ہے۔ جمعہ کے روز حکام نے بتایا ہے مسلم اقلیت کے ادارے کو تباہ کرنے کا اب تک آخری واقعہ ہے۔

شمالی بھارت کی ریاست اترا کھنڈ کے بلدیاتی حکام کے مطابق اس مسلم تعلیمی ادارے کو جمعرات کے روز تباہ کیا گیا تھا۔تاہم جمعہ کے روز اس پر مسلم اقلیت نے احتجاج کرنا چاہا۔ مقامی سرکار کا کہنا ہے کہ انہیں اس احتجاج کی اجازت نہیں تھی۔ نہ ہی انہیں سکول کی عمارت بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔

پولیس نے احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہے تھے۔ اس دوران ان پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

وندانہ سنگھ نے بتایا اس صورت حال میں فساد پھوٹ پڑا اور احتجاج کرنےوالوں میں سے دو ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ ضلعی انتظامیہ نے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں دی ہے۔ تاہم وندانہ سنگھ نے بتایا ہے مظاہرین کو موقع پر گولی مار دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں انٹر نیٹ کی سروس بھی معطل کر دی۔ تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ نیز علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

واضح رہے مسلمانوں کی مساجد کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ بھارت کے کئی علاقوں میں مساجد کو مسمار کر کے ان کی جگہ مندر بنانے کی ایک مہم جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں