ٹرین میں 15 افراد کویرغمال بنانے والا ایرانی سوئس پولیس کے ہاتھوں قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سوئس پولیس نے بتایا ہے کہ ایک 32 سالہ ایرانی پناہ گزین کو پولیس نے اس وقت ہلاک کو دیا جب اس نے مغربی سوئٹزرلینڈ میں ایک ٹرین میں 15 سے زائد افراد کو کلہاڑی اورچاقو کے استعمال سے کئی گھنٹے یرغمال بنا لیا، تاہم اس واقعے میں کوئی یرغمالی زخمی نہیں ہوا۔

فرانسیسی بولنے والے علاقے واؤڈ کی پولیس نے جمعے کے روز بتایا کہ اس شخص نےجمعرات کی شام لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ پولیس نے مسافروں کو متنبہ کرتے ہوئے علاقے کو سیل کر دیا۔

فارسی اور انگریزی بولنے والے اس شخص نے ٹرین انجینیر سے یرغمالیوں میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔

واقعہ شروع ہونے کے تقریباً چارگھنٹے بعد پولیس نے ایک ترجمان کے ذریعے اس شخص سے بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پولیس نے ٹرین پر دھاوا بول دیا۔ ایک یرغمالی نے بتایا کہ آپریشن میں 60 سے زائد پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔

یرغمال بنائے جانے والے ایک شخص نے بتایا کہ اغواء کار سے جزوی طور پر واٹس ایپ پیغامات اور فارسی بولنے والے مترجم کے ذریعے ہوئی۔

"ایکس" پلیٹ فارم پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ٹرین رات کے وقت رکی۔ بعد میں کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’’تمام مغویوں کو بہ حفاظت رہا کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "یرغمال بنانے والا آپریشن کے دوران ہلاک ہو گیا"۔

واؤڈ صوبے میں پولیس کے ترجمان جین کرسٹوفی سوٹیرل نے کہا کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ تھا۔

واؤڈ کینٹن پبلک پراسیکیوٹر آفس کے ترجمان ونسنٹ ڈیروانڈ نے کہا کہ اس شخص کے محرکات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

پبلک پراسیکیوٹر ایرک کالٹنرائیڈر نے مقامی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ "یرغمالیوں کی تعداد 15 تھی۔ انہیں بازیاب کرانے کے لیے 60 پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں