غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے قریب آنے پر مصر کا سرحد پر سکیورٹی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دو مصری سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ مصر نے غزہ کے ساتھ اپنی سرحد پر سکیورٹی کی مضبوطی کے اقدامات کے طور پر گذشتہ دو ہفتوں کے اندر تقریباً 40 ٹینک اور بکتر بند اہلکار بردار جہاز شمال مشرقی سینائی میں بھیجے ہیں۔

غزہ کے جنوبی شہر رفح جہاں اس کی زیادہ تر آبادی نے حفاظت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے ارد گرد یہ تعیناتی اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں توسیع سے پہلے کی گئی تھی جس سے یہ مصری خدشہ بڑھ گیا ہے کہ فلسطینیوں کو زبردستی انکلیو سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے جمعہ کو سرحد سے ملحقہ رفح پر حملہ کیا اور وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوج کو حکم دیا کہ وہ بے گھر ہونے والے لوگوں کو نکالنے کے لیے تیار رہیں۔

7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے مصر نے ایک کنکریٹ کی سرحدی دیوار تعمیر کی ہے جو زمین میں چھ میٹر کی گہرائی تک جاتی ہے اور اس کے اوپر خاردار تاریں لگی ہوئی ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس نے سڑک کے ابھرے ہوئے کنارے بھی بنائے ہیں اور سرحدی چوکیوں پر نگرانی بڑھا دی ہے۔

گذشتہ ماہ مصر کی سرکاری اطلاعاتی سروس نے اسرائیل کی ان تجاویز کے جواب میں اپنی سرحد پر کیے گئے کچھ اقدامات کی تفصیل بیان کی تھی کہ حماس نے مصر سے اسمگل کیے گئے ہتھیار حاصل کیے تھے۔ اس نے کہا کہ رکاوٹوں کی تین لائنوں نے کسی بھی زمینی یا زیرِ زمین سمگلنگ کو ناممکن بنا دیا ہے۔

ایک آزاد گروپ سینائی فاؤنڈیشن فار ہیومن رائٹس کی رائٹرز سے اشتراک کردہ تصاویر میں دسمبر میں دیوار کی تنصیب نظر آتی ہے جس کے پیچھے سڑک کے کئی ابھرے ہوئے کنارے ہیں۔

بعد کی تصاویر جو گروپ نے کہا کہ فروری کے اوائل میں لی گئی تھیں، دکھاتی ہیں کہ دیوار کے اوپر خار دار تار کی تین عمودی تہیں نصب کی جا رہی تھیں۔ رائٹرز ان تصاویر کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے کے قابل نہیں تھا۔

جنوری اور دسمبر کی سیٹلائٹ تصاویر میں رفح کے قریب 13 کلومیٹر (8 میل) سرحد کے ساتھ ساتھ کچھ نئی تعمیرات اور اس کے شمالی سرے پر سمندر کے کنارے تک دیوار کی توسیع بھی نظر آتی ہے۔

مصری اور اسرائیلی حکام نے تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

نئے اقدامات شمالی سینائی میں سکیورٹی میں توسیع کے بعد سامنے آئے ہیں جب مصر کی فوج نے ایک عشرہ قبل بڑھنے والی شورش کے خلاف اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔

غزہ میں موجودہ جنگ شروع ہونے سے پہلے مصر نے کہا تھا کہ اس نے ان سرنگوں کو تباہ کر دیا تھا جن کے ذریعے پہلے غزہ میں اسمگلنگ پرورش پاتی تھی اور اس نے سرحد کے قریب ایک بفر زون صاف کر دیا تھا۔

غزہ کے ساتھ رفح گذرگاہ تک پہنچنے پر مسمار مکانات کی باقیات کے ساتھ ساتھ کنکریٹ کی میلوں کی دیواریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں جو سمندر کے متوازی اور سرحد کی قریبی سڑکوں کے نزدیک بنائی گئی ہیں۔

مصر نے بار بار اس امکان پر خطرے کی گھنٹی بجائی ہے کہ اسرائیل کی جارحیت غزہ کے مایوس باشندوں کو سینائی منتقل کر سکتی ہے جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی علاقے کی غیر فوجی کرنے کی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے غزہ-مصر سرحدی راہدادری کا مکمل کنٹرول دوبارہ حاصل کر لے گا۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ سرحد پر سکیورٹی کی تنظیمِ نو پر دونوں ممالک کی طرف سے باقاعدہ بات چیت جاری ہے جہاں ان کے بقول چند سرنگیں باقی ہیں۔

عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل غزہ کے اندر کسی بھی فوجی آپریشن سے قبل بے گھر فلسطینیوں کی شمال کی طرف نقل و حرکت کو منظم کرنے کی کوشش کرے گا۔

مصر نے اسرائیل پر غزہ میں امداد کی ترسیل کو محدود کرنے کا الزام بھی لگایا ہے جہاں قحط کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور امدادی کارکنوں نے بیماری کے پھیلاؤ سے خبردار کیا ہے۔

اسرائیل نے انسانی امداد کو روکنے یا مسترد کرنے کی تردید کی ہے۔

مصر نے غزہ سے فلسطینیوں کی نقلِ مکانی کی مخالفت کی ہے جو عرب ممالک کی طرف سے اس تجویز کے وسیع تر انکار کا حصہ ہے جس میں "نقبہ" یا "تباہی" جیسا عمل دہرایا جائے جس پر فلسطینی آج بھی ماتم کرتے ہیں۔ یہ واقعہ تب پیش آیا تھا جب 1948 میں اسرائیل کی تخلیق کی جنگ میں تقریباً 700,000 افراد بھاگ گئے یا گھروں سے بے دخلی پر مجبور ہو گئے تھے۔

سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کا بیان ہے کہ مصر کو حماس کی دراندازی اور پناہ گزینوں کی ایک بڑی آبادی کی میزبانی پر بھی تشویش ہے۔ اکتوبر میں صدر عبدالفتاح السیسی نے خبردار کیا تھا کہ نقلِ مکانی سینائی کو اسرائیل کے خلاف حملوں کے مرکز میں تبدیل کر سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں