ہالینڈ کے سابق وزیرِ اعظم ڈریس وان اگٹ اور ان کی اہلیہ کی بیک وقت بے ایذا موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق 1977 سے 1982 تک نیدرلینڈز کے کرسچن ڈیموکریٹ وزیرِ اعظم ڈریس وان اگٹ کی اپنی اہلیہ کے ہمراہ "ہاتھ میں ہاتھ لیے" بے ایذا موت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ دونوں 93 سال کے تھے۔

جمعے کے روز دی رائٹس فورم کی طرف سے عام کردہ اس خبر میں کہا گیا کہ جوڑے کا انتقال پیر کو ہوا اور انہیں مشرقی شہر نجمگین میں ایک نجی تقریب میں دفنایا جائے گا۔

غیر منافع بخش تنظیم نے ایک بیان میں کہا، "وہ اپنی عزیز اہلیہ یوجینی وان اگٹ-کریکلبرگ جو ان کا سہارا اور طاقت تھیں، کے ہاتھ میں ہاتھ لیے دنیا سے رخصت ہوئے جن کے ساتھ انہوں نے 70 سال سے زیادہ عرصہ گذارا اور جن کا ذکر وہ ہمیشہ 'میری لڑکی' کہہ کر کرتے تھے۔"

دونوں کی طبیعت کچھ عرصے سے ناساز تھی۔ 2019 میں وان اگٹ کو فلسطینیوں کے لیے ایک یادگاری تقریب میں تقریر کے دوران برین ہیمرج ہوا اور وہ کبھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوئے۔

روایتی ڈچ اسٹاک سے تعلق رکھنے والے کرسچن ڈیموکریٹ وان اگٹ سیاست چھوڑنے کے بعد تیزی سے ترقی پسند ہو گئے اور بالآخر 2017 میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے بارے میں مرکزی-دائیں کرسچن ڈیموکریٹک اپیل کے نقطۂ نظر سے نظریاتی اختلافات پر اپنی پارٹی چھوڑ دی۔

ڈچ وزیر اعظم مارک روٹے نے سابق سیاستدان کے بارے میں بہت زیادہ بات کی جو وان اگٹ کو اپنے "دفتر میں پردادا" کہا کرتے تھے۔

روٹے نے ایک بیان میں کہا، "اپنی رنگیں بیانی اور منفرد زبان، اپنے واضح عقائد اور اپنی جاندار شخصیت کے ساتھ ڈریس وین اگٹ نے تقسیم اور پارٹی کی تجدید کے وقت ڈچ سیاست کو رنگ اور جوہر عطا کیا۔" ڈچ شاہی خاندان نے بھی ان کی تعریف کی۔

بادشاہ ولیم الیگزینڈر، ملکہ میکسیما اور شہزادی بیٹرکس نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، "انہوں نے ایک ہنگامہ خیز وقت میں انتظامی ذمہ داری لی اور اپنی جاندار شخصیت اور رنگین انداز سے بہت سے لوگوں کو متأثر کرنے میں کامیاب ہوئے۔"

وان اگٹ اپنے قدیم حوالوں اور شاندار زبان کے ساتھ ساتھ سائیکل چلانے کے شوق کے لیے بھی معروف تھے۔ ایک حادثے کے بعد 2019 میں وہ اس شوق کو ترک کر دینے پر مجبور ہو گئے۔

دائیں بازو کی لبرل پارٹی کے ساتھ مل کر کرسچن ڈیموکریٹ اپیل نے 1977 سے 1981 تک ہالینڈ پر حکومت کی جس میں وان اگٹ وزیرِ اعظم تھے۔ انتخابات کے بعد وہ دوبارہ وزیر اعظم بن گئے اور لیبر پارٹی اور مرکزی ڈیموکریٹس 66 پارٹی کے ساتھ حکومت میں اتحاد بنایا جو ایک سال تک قائم رہی۔

1999 میں اسرائیل کے دورے کے بعد وہ فلسطینی عوام کی حمایت کے بارے میں تیزی سے آواز اٹھانے لگے۔ انہوں نے اپنے سفر کے تجربے کو "تبدیلی" کے طور پر بیان کیا۔

غیر منافع بخش تنظیم کے مطابق 2009 میں انہوں نے دی رائٹس فورم کی بنیاد رکھی جو "مسئلہ فلسطین/اسرائیل کے حوالے سے منصفانہ اور پائیدار ڈچ اور یورپی پالیسی" کی وکالت کرتا ہے۔

ان کے پسماندگان میں ان کے تین بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں