ایرانی انقلاب کی 45ویں سالگرہ، 'مرگ بر اسرائیل' اور 'مرگ بر امریکہ' کے نعروں کی گونج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ماحول میں اتوار کے روز ایران میں اسلامی انقلاب کی 45ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ انقلاب کی یہ سالگرہ 1979 میں ایران میں رونما ہونے والے انقلاب کی یاد میں ہے۔ انقلاب کی قیادت آیت اللہ خمینی کر رہے تھے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں جگہ جگہ کشیدگی کی علامات ہیں۔

اتوار کے روز ہزاروں ایرانیوں نے اہتمام سے سجائی گئی گلیوں اور سڑکوں پر مارچ کیا۔ مارچ کے ان راستوں کو رنگ برنگے غباروں اور بینرز کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ ان بینرز پر مذہبی اور انقلابی نعرے تحریر ہیں۔

تہران کی گلیوں میں ایرانیوں نے پرجوش انداز میں ایرانی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ 'مرگ بر امریکہ' اور 'مرگ بر اسرائیل' کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ نعرے پلے کارڈز پر بھی درج تھے جنہیں ایرانی شہری 45ویں سالگرہ کے موقع پر خوشی سے لہرا رہے تھے۔

ایران کے سرکاری طور پر منائے جانے والے ایام اور منعقد کردہ ریلیوں میں یہ ایک معمول کی بات ہے کہ اس میں امریکی اور اسرائیلی پرچم جلائے جاتے ہیں۔

اتوار کے روز تہران کے مختلف چوراہوں اور مقامات سے انقلابی ریلیوں کا آغاز ہوا جو آزادی چوک پر اکٹھے ہوگئے۔

ریاستی ٹی وی نے اس موقع پر اپنی نشریات میں مختلف ایرانی شہروں میں منعقد کی گئی ریلیوں اور تقریبات کو بطور خاص دکھانے کا اہتمام کیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان ریلیوں میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔

اس موقع پر فوج نے اپنے تیار کردہ جدید اسلحہ کی نمائش کا بھی اہتمام کیا جس میں شہریوں نے بڑی دلچسپی لی۔ نمائش میں قاسم سلیمانی میزائل کے علاوہ سجیل بیلیسٹک میزائل اور سیمرغ سیٹلائٹ کو شامل کیا گیا تھا۔ شہریوں نے ان سب چیزوں کے ساتھ بڑے اہتمام سے تصویریں بنائیں۔

اس موقع پر ایرانی چھاتہ برداروں نے پیراشوٹس کے ذریعے جہازوں سے زمین پر جیمپ کیا۔ ایرانی چھاتہ برداروں کے ہاتھوں میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے فلسطینی پرچم تھے۔

تقریبات میں اعلیٰ ایرانی حکام اور عہدیداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی بھی شامل تھے۔

ابراہیم رئیسی نے آزادی چوک پر شہریوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور اپنی تقریر کے دوران اسرائیل کی مذمت کی اور صیہونی ایجنڈے کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ صیہونی رجیم کو ختم کرے اور جلد سے جلد غزہ میں بمباری کو رکوایا جائے۔ اس دوران اجتماع میں شریک ہونے والے شہری 'مرگ بر اسرائیل' کے نعرے لگا رہے تھے۔

پاسداران انقلاب کور کے سربراہ محمد سالامی اور اسماعیل غنی نے بھی فوجی پریڈ اور تقریبات میں بطور خاص شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں