ہمیں کرپشن کے سب سے بڑے سیاسی اسکینڈل کا سامنا ہے:جیمز کومر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ایوان نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین جیمزکومر نے امریکی چینل نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر جو بائیڈن کے خلاف جاری تحقیقات کو "اپنی زندگی کا سب سے بڑا سیاسی کرپشن سکینڈل" قرار دیا۔

انہوں نے تفتیش کی گئی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے بائیڈن کے بیانات میں تضادات پر روشنی ڈالی اور تحقیق کے لیے درست متن اور مخصوص مواد حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

کومر نے کوریج میں تعصب کا الزام لگاتے ہوئے بائیڈن کی تحقیقات سے متعلق دستاویزات شائع کرنے کے اپنے مطالبات کے حوالے سے میڈیا کی خاموشی پر تنقید کی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "میڈیا ان انٹرویوز کی ٹرانسکرپٹ حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جو بائیڈن کے لیے ایک جہنمی انٹرویو ہے۔"کومر نے تفتیشی ریکارڈ کو محفوظ کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ اسے حاصل کرنے کے لیے ضروری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

تحقیقات کی ابتدا کے بارے میں پوچھ گچھ کے جواب میں کومر نے بائیڈن کی "خفیہ دستاویزات کے غلط استعمال" کی تحقیقات شروع کرنے کا سہرا ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کو دیا۔ تاہم انہوں نے اسپیشل کونسل رابرٹ ہوئر کی تقرری کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا، جو اس سے قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کیے گئے ایک امریکی وکیل تھے۔

کومر نے وضاحت کی کہ تحقیقات بنیادی طور پر چین اور یوکرین سے متعلق مشتبہ دستاویزات کے غلط استعمال پر مرکوز تھیں۔ انہوں نے خصوصی تفتیش کار کی رپورٹ کے نتائج کی طرف اشارہ کیا جو صدر کی اس حوالے سے لا علمی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم جو بائیڈن کے بارے میں خفیہ دستاویزات کو غلط طریقے سے ہینڈل کرنے کے الزام میں تفتیش نہیں کر رہے تھے کیونکہ وہ بوڑھے ہوچکے ہیں۔ ہم تحقیقات کر رہے تھے کیونکہ ہمیں شبہ تھا کہ ان کے پاس وہاں چین اور یوکرین سے متعلق دستاویزات موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں