فلسطین اسرائیل تنازع

بائیڈن کے معاونین صدر پرنیتن یاہو پراعلانیہ تنقید کا مطالبہ کررہے ہیں: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان غزہ جنگ کے حوالے سے بڑھتے اختلافات کےدوران 6 امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن اور ان کے معاونین اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات توڑنے کے قریب ہیں۔

انہوں نے اتوار کو واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ بائیڈن کے معاونین ان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ نیتن یاہو پر عوامی سطح پر تنقید کریں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بائیڈن کے معاونین اب نیتن یاہو کو ایک ایسے پارٹنر کے طور پر نہیں دیکھتے جو خفیہ طور پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے بارے میں بائیڈن کا نقطہ نظر تبدیل نہیں ہوا ہے، لیکن وہ نیتن یاہو کی مذمت کر سکتے ہیں۔

مزید امداد کی فراہمی

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر اہلکار جو صدرکے ساتھ باقاعدگی سے بات کرتے ہیں نے کہا کہ جمعرات کو بائیڈن کے غیر معمولی طور پر سخت تبصرے جن میں انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو حدود سے تجاوز قرار دیا بڑھتے اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کیونکہ صدر اس طرح کی باتیں پہلے بھی نجی سطح پر کرتے رہے ہیں مگر اب انہوں نے کھل کربات کرنا شروع کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ اسرائیلیوں نے جو کچھ غزہ میں کیا ہے اور کو درست سمجھ سکتا ہے اور یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مبالغہ آرائی ہے۔ اس سے اسرائیلی مایوس ہوتے ہیں۔ کیا انہوں نے غزہ میں آگے آنے والی چیزوں پر کام کیا ہے؟ واقعی مشکل سوالات ہیں"۔

اہلکار نے کہا کہ بائیڈن غزہ میں مزید انسانی امداد پہنچانے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ معاملہ "ہمیشہ ان کے ذہن میں ہے" اور وہ اسرائیل کی طرف سے رکھی گئی رکاوٹوں سے مایوسی محسوس کرتے ہیں"۔

اسرائیل اپنے اہداف کے حصول کی صلاحیت رکھتا ہے

جو چیز امریکی حکام کی مایوسی کو بڑھاتی ہے وہ اسرائیل کی مکمل فوجی فتح کے اپنے بیان کردہ ہدف کو حاصل کرنے کی صلاحیت کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات ہیں۔

گذشتہ ہفتے ایک بند کمرہ بریفنگ میں امریکی انٹیلی جنس حکام نے قانون سازوں کو بتایا کہ اگرچہ اسرائیل نے حماس کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کر دیا ہے، لیکن وہ اپنی مہم کے 100 دنوں سے زیادہ عرصے میں تحریک کو ختم کرنے کے قریب نہیں پہنچا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان غزہ کے حوالے سے متعدد نکات پر اختلافات پائے جاتے ہیں، جن میں غزہ کی پٹی کا مستقبل، شہریوں کا تحفظ، اوسلو معاہدے کے ذریعے ضمانت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے ٹیکس فنڈز اور غزہ میں جنگ کے بعد کے عرصے کے نکات شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں