رفح پر حملہ ایک انسانی المیہ ثابت ہوگا:فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانس نے فلسطین کے جنگ سے تباہ حال علاقے غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح پر اسرائیلی حملوں کے اعلان کے بعد اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں لڑائی بند کر دے تاکہ "انسانی آفت" سے بچا جا سکے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے معاون ترجمان کرسٹوف لیموئن نے ایک تحریری بیان میں کہاکہ "رفح پر بڑے پیمانے پر اسرائیلی حملہ ایک تباہ کن انسانی صورت حال کو نئی اور غیر منصفانہ جہتوں کی طرف لے جائے گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اس المیے سے بچنے، تباہی روکنے اور لڑائی بند کرنے کے لیے ہم ایک بار پھر جنگ بندی کا مطالبہ کرتےہیں‘‘۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ وہ غزہ کے جنوبی شہر رفح میں حماس کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری کررہی ہے۔ مصر کی سرحد سےمتصل رفح میں اس وقت تیرہ لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری بار بار اسرائیل کو وہاں پر حملے سے روک رہی ہے، تاہم اسرائیلی حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

غزہ کے جنوب میں رفح سے (آرکائیوز - رائٹرز)

’اے ایف پی‘ کے مطابق فرانسیسی حکومت کے ترجمان نے نشاندہی کی کہ "رفح آج 1.3 ملین سے زیادہ لوگوں کے لیے پناہ گاہ ہے اور یہ غزہ کے باشندوں کو انسانی امداد پہنچانے کے لیے ایک اہم کراسنگ پوائنٹ بھی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ"غزہ میں دیگر جگہوں کی طرح فرانس آبادی کی کسی بھی جبری نقل مکانی کی مخالفت کرتا ہے، جو کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ناقابل قبول ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں