روس نے برطانوی حکام، تاریخ دانوں اور ماہرین تعلیم پر پابندیاں عائد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس نے 18 برطانوی شہریوں پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں برطانیہ حکومت کے عہدے داروں کے علاوہ مورخ اور ماہرین تعلیم بھی شامل ہیں۔ یہ پابندیاں پیر کے روز لگائی گئی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ان پابندیوں کی وجہ یوکرین جنگ کے بعد یہ شخصیات روس فوبیا کا شکار ہو کر کریملن انتظامیہ کو بدنام کرنے اور یوکرین کی جنگ کو ہوا دینے میں شریک رہے۔ نیز انہوں نے روس کے آئین و قانونی بنیادوں پر کھڑے سیاسی و سماجی نظام کو بھی بدنام کرنے کوشش کی ہے۔

روسی پابندیوں کے اعلان میں کہا گیا ہے یہ نام نہاد ٹرسٹ روسی انداز میں لندن کے تخریبی کاموں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ برطانوی اور مغربی تعلیمی اداروں کی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔

پابندیوں کے زد میں برطانیہ کے نائب وزیر دفاع جیمز کارٹلیج، ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سارہ مینٹوش اور آبدوز کے ڈائریکٹر سائمن سکویت آئے ہیں۔ مغربی بلقان کے لیے برطانوی وزیراعظم کے خصوصی ایلچی اسٹورٹ پیچ، لارڈز ڈین اور مائیکل ایش کو بھی ان پابندیوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

ماہرین تعلیم میں سے جو روسی پابندیوں کی زد میں آئے ہیں ان میں اورلینڈو فینچر، نارمن ڈیوس، ٹموتھی گارڈن ایش، راب جانسن، ڈیوڈ ایولفیاء اور آکسفورڈ کے رائے ایلیسن، یوسیورسٹی آف نارتھ کیرولینا سے تعلق رکھنے والے گریم رابرٹسن، ہارورڈ کے کالڈر والٹن اور انٹرنیشنل سینٹر کے جیمز شیر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں