نیٹو اتحادیوں کے دفاع کے لیے ٹرمپ کے منفی ریمارکس پر یورپی عہدے دار کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یورپی یونین کے 'انٹرنل مارکیٹ کمشنر تھیری بریٹن' نے امریکہ کے امکانی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ریمارکس ' جو یورپی ممالک نیٹو کو روس سے ممکنہ خطروں کے لیے کافی رقم ادا نہیں کرتے ان کے دفاع کی ذمہ داری نہ لی جائے گی' پر تنقید کی ہے۔

اعلیٰ یورپی عہدے دار سے ایک ٹی وی کی طرف سے ٹرمپ کے ان ریمارکس پر تبصرے کے لیے کہا تو ان کا کہنا تھا' ہم ہر چار سال بعد امریکی انتخاب کی صورت میں اپنی سلامتی کے لیے سکہ الٹ پلٹ نہیں سکتے۔' بریٹن نے مزید کہا ' یورپی لیڈر نیٹو کی ضروریات کو اپنی سلامتی کے حوالے سے اہم سمجھتے ہیں اس لیے اس پر خرچ کرتے ہیں۔'

پولینڈ کے وزیر دفاع ولادییسلا کوسی نیاک نے بھی اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے یورپی یونین کے عہدے دار کی بات کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے اپنا تبصرہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھا' نیٹو کا نعرہ ہی یہ ہے کہ ' ایک جو سب کے لیے ہے' ٹرمپ کے ریمارکس نے ' اس پلیٹ فارم کی حیثیت اور ساکھ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔'

اس صورت حال میں نیٹو کے سربراہ نے اتوار کے روز کہا ' کسی انتخابی مہم کی ضرورت کے تحت اجتماعی سلامتی کے لیے قائم اس اتحاد کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے۔ ' نیٹو چیف نے رکن ممالک سے بھی کہا ' نیٹو ارکان ایک دوسرے کے دفاع کے حوالے سے ان ریمارکس کا جواب نہ دیں اس سے ادارے کی ساکھ کے ساتھ ساتھ امریکی اور یورپی سپاہیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

نیٹو سربراہ نے کہا ' نیٹو اتحاد پر کسی بھی حملے کا جواب متحد ہو کر اور پر امن انداز میں دیا جائے گا۔' واضح رہے نیٹو اتحاد کے بنیادی معاہدے میں رکن ملکوں کے باہمی دفاع کی ضمانت دی گئی ہے۔ کہ کسی بھی ایک ملک پر حملے کا جواب مل کر دیا جائے گا اور سب ملک متعلقہ ملک کا دفاع کریں گے۔

مگر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کیرولینا میں ایک سیاسی ریلی سے ہفتے کے روز اپنے خطاب میں اس بارے میں تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا ' انہوں نے ایک یورپی صدر سے بات کرتے ہوئے کہا تھا اگر ہم امریکہ نیٹو کو فنڈز دینا بند کر دے تو کیا آپ ( یورپی ممالک ) امریکی دفاع کروگے؟'

ان کا کہنا تھا میں اس طرح ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا تھا کہ وہ جو چاہتے کہ حاصل کریں اس کے لیے ادائیگی کریں۔

یورپی عہدے دار نے ان ریمارکس کے بارے میں مزید کہا ' ہم نے یہ بات پہلے بھی سن رکھی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے سورج کے نیچے کوئی چیز نئی نہیں ہے۔' ہو سکتا ہے کہ انہیں اپنی یادداشت کی وجہ سے کچھ مسئلہ ہو۔'

ٹرمپ نے جس کے ساتھ اس مکالمے کا حوالہ دیا ہے یہ یورپی کمیشن کی صدر تھیں ارسلا وان ڈیر لیین کوئی ملک نہیں تھا، ان کے ساتھ ٹرمپ کا 2020 میں مکالمہ ہوا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان اینڈریو بیٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ان ریمارکس کے بارے میں کہا ' قاتل رجیموں کی طرف سے اپنے اتحادیوں پر حملے کی حوصلہ افزائی کرنا خطرناک بات ہے۔ اس طرح کی سوچ سے خود امریکی سلامتی ، عالمی استحکام اور امریکی معیشت کے لیے خطرات لاحق ہوں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں