ٹک ٹاک پر بائیڈن کی پہلی ویڈیو پوسٹ - ایکس پر ڈروانی تصویر جاری

ٹک ٹاک پر مہم ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے کہ جب صدر جو بائیڈن اس پلیٹ فارم کے بارے میں قومی سلامتی کے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی رواں برس ہونے والے صدارتی الیکشن کی انتخابی مہم اب ٹک ٹاک پر بھی شروع کر دی گئی ہے۔

بائیڈن کی انتخابی مہم چلانے والوں نے 'بائیڈن ایچ کیو' کے نام سے چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک اکاؤنٹ بنایا گیا ہے۔

کیمپین (مہم) ایسے وقت میں ٹک ٹاک پر شروع کی گئی ہے جب صدر جو بائیڈن اس پلیٹ فارم کے بارے میں قومی سلامتی کے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ امریکہ میں وفاقی ملازمین کے زیرِ استعمال سرکاری موبائل فونز یا دیگر ڈیوائسز پر ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔

صدر کے معاونین کا کہنا ہے کہ بائیڈن سے ذاتی طور پر یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ یا ان کی انتظامیہ میں سے کوئی اور اس پلیٹ فارم کا حصہ بنے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ٹک ٹاک پر بننے والا یہ اکاؤنٹ مکمل طور پر انتخابی مہم کی ٹیم کے ذریعے چلایا جائے گا۔

بعض ماہرین منقسم امریکی معاشرے میں ووٹرز خاص طور پر ایسے نوجوانوں تک پہنچنے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں جو روایتی پلیٹ فارمز سے دور ہو رہے ہیں۔

امریکہ کے تفتیشی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور فیڈرل کمیونی کیشن کمیشن دونوں خبردار کر چکے ہیں کہ ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی 'بائٹ ڈانس' صارفین کے ڈیٹا چین کی حکومت سے شیئر کر سکتی ہے۔

اس ڈیٹا میں براؤزنگ ہسٹری، لوکیشن اور بائیو میٹرک آئیڈینٹی فایئرز جیسا ڈیٹا شامل ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے 2022 میں وفاقی حکومت کے تقریباً 40 لاکھ ملازمین کی سرکاری ڈیوائسز پر ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔

تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں، قومی سلامتی اور سیکیورٹی ریسرچ کے مقصد سے کام کرنے والوں کو محدود استثنیٰ حاصل ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق ایک کمیٹی کئی برسوں سے ٹک ٹاک ایپ کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔

بائیڈن کی مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ وہ سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید حفاظتی تدابیر اختیار کر رہے ہیں اور وہ سیکیورٹی پروٹوکولز کو بھی شامل کر رہے ہیں۔

لیکن انہوں نے اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ اقدامات کیا ہیں۔

واضح رہے کہ چین کی جانب سے 2017 میں ایک قانون نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت کمپنیاں ملک کی قومی سلامتی سے متعلق کوئی بھی ذاتی ڈیٹا حکومت کو دینے کی پابند ہیں۔

تاہم اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ ٹک ٹاک نے اس طرح کے ڈیٹا کو فراہم کیا ہے۔ لیکن دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کی طرح صارف کے ڈیٹا کی بڑی تعداد رکھنے کی وجہ سے ٹک ٹاک کے بارے میں بھی خدشات پائے جاتے ہیں۔

بائیڈن کی انتخابی مہم کے منتظمین کا کہنا تھا کہ بائیڈن ایچ کیو نامی اکاؤنٹ پلیٹ فارم پر باقاعدگی سے مواد شیئر کیا جائے گا۔

بائیڈن کی مہم ایکس سے ملتے چلتے میٹا کے پلیٹ فارم تھریڈز، فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور ٹروتھ سوشل پر اپنی موجودگی رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی کمپنی کی ملکیت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں