کیا طالبان نے بن لادن کے ساتھی کی رہائی کے لیے امریکا کے ساتھ ڈیل کی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اگرچہ قطر میں امریکہ اور افغان طالبان تحریک کے درمیان مذاکرات ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں تحریک کے ہاتھوں متعدد امریکی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بالآخر ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

باخبر ذرائع نے اتوار کے روز العربیہ/الحدث کو انکشاف کیا کہ امریکہ نے القاعدہ کے سابق رہ نما اسامہ بن لادن کے افغان معاون کی رہائی کے بدلے ایک امریکی قیدی کے بدلے طالبان کے ساتھ تبادلے کا معاہدہ کیا ہے۔

امریکی قیدی ریان کاربیٹ (درمیان)
امریکی قیدی ریان کاربیٹ (درمیان)

ان ذرائع نے وضاحت کی کہ امریکہ نے طالبان کی جیلوں میں قید امریکی قیدی ریان کاربیٹ کی رہائی کے بدلے محمد رحیم افغانی جو بن لادن کے معاون خصوصی کے طور پر کام کرتے تھے ایک اور افغان قیدی کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی۔

کابل میں طالبان کے ارکان
کابل میں طالبان کے ارکان

توقع ہے کہ تبادلے کے معاہدے پر آج سوموار کو عمل درآمد ہوجائے گا۔

الظواہری کے ہیڈ کوارٹر کا انکشاف

طالبان انٹیلی جنس نے 10 اگست 2022ء کو کابل میں القاعدہ کے رہ نما ایمن الظواہری کی ہلاکت کے چند دن بعد کاربیٹ کو گرفتار کیا تھا۔

جہاں تک اس کی گرفتاری کی وجہ ہے العربیہ کے نجی ذرائع کے مطابق اس پر امریکہ کے لیے جاسوسی کا الزام ہے۔ طالبان کا خیال ہےکہ امریکی جاسوس نے الظواہری کے ٹھکانے کی جاسوسی کی تھی۔

ایمن الظواہری
ایمن الظواہری

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بن لادن کے معاون کو پاکستانی فورسز نے 2007ء میں لاہور شہر میں ایک عوامی بس میں سوار ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

اس کے بعد انہیں 2008 میں مشہور گوانتانامو جیل منتقل کر دیا گیا۔

2 اگست 2022 کو امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکی فوج نے الظواہری کو کابل میں ہلاک کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں