فلسطین اسرائیل تنازع

ہیگ : عدالت نے ایف 35 طیاروں کے پرزوں کی اسرائیل کو ترسیل سے روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہالینڈ کی ایک مقامی عدالت نے انسانی حقوق سے متعلق تنظیموں کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے کہ حکومت اسرائیل کو امریکی ساختہ جنگی طیاروں کے فاضل پرزوں کی فراہمی روک دے کیونکہ پرزوں کی اس ترسیل سے بین الاقوامی قوانی اور انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں میں حصہ داری کے مترادف ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکومت وہ تمام ترسیلات اور برآمدات اسرائیل کو روک دے جن کا تعلق ایف 35 طیاروں کے پرزوں کے ساتھ ہے۔ تاہم اس کے لیے عدالت نے ہالینڈ کی حکومت کجو سات دن کی کے اندر عمل در آمد کا وقت دیا ہے۔

واضح رہے امریکی ساختہ جدید جنگی طیاروں کے فاضل پرزوں کے ہالینڈ میں گودام ہیں۔ جن ملکوں کو امریکہ ایف 35 طیارے فروخت کرتا ہے وہ بعد ازاں فاضل پرزے ہالینڈ سے لیتےہیں۔ انسانی حقوق گروپوں کا استدلال یہ تھا کہ اس طرح ہالینڈ غزہ میں اسرائیلی جرائم کا حصہ بن رہا ہے جو کہ اسنانی حقوق کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ماہ دسمبر میں عدالت نے اس بارے میں کہا تھا کہ جنگی طیاروں کے پرزے اسرائیل کو دینا ایک سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے اور عدالت سیاسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ ہالینڈ کے حکومت کا کہنا تھا کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ یہ فاضل پرزے روک سکے۔

ہالینڈ کے حکام نے یہ بھی موقف اختیار کیا تھا کہ ہالینڈ سے اگر اسرائیل کو فاضل پرزوں کی ترسیل روک بھی دی گئی تو اسرائیل کسی اور جگہ یا طریقے سے یہ حاصل کرسکے گا۔ بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے جنگ کے دوران فریقوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم 'پیکس ہالینڈ ' نے عدالت کے اس فیصلے پر کہا ہے ' عدالت کے اس حکم نے ہمارے اعتماد کو مضبوط کر دیا ہے۔ ہمارے مقدمے میں ایک مثبت فیصلہ دیا گیا ہے۔ یاد رہے اسرائیلی کی غزہ پر جنگی طیاروں سے کی گئی اب تک کی بمباری کے نتیجے میں 28 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 70 فیصد فلسطینی بچے اور عورتیں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں