فلسطین اسرائیل تنازع

اقوام متحدہ کی نمائندہ برائے انسانی حقوق کو اسرائیل نے ویزہ دینے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ماہر اور نمائندہ کو اسرائیل کا ویزہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہر فرانسکا البانی کو ویزے سے انکار اس لیے کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر سات اکتوبر کے حماس حملے کے بارے میں اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کو یہود دشمنی کی بنیاد پر حملہ نہیں بلکہ اسرائیلی جبر کا رد عمل قرار دیا تھا۔

البانی جنہوں نے ابھی پچھلے ہفتے ہی فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے سات اکتوبر کو یہود دشمنی سے جوڑنے سے اختلاف کرتے ہوئے 'ایکس ' پر لکھا تھا' سات اکتوبر کے حملے کے متاثرین یہود دشمنی کا نشانہ نہیں بنے تھے بلکہ وہ اسرائیلی جبر کی وجہ سے رد عمل کا نشانہ بنے ہیں۔'

اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز اور وزیر داخلہ موشے اربیل نے جواباً ان کے بیان کو ' اشتعال انگیز ' قرار دیا اور کہا کہ ان کا اسرائیل میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اب اسرائیلی امیگریشن حکام کو بتادیا گیا ہے کہ البانی کو ویزا نہ جاری کیا جائے۔ نیز اسرائیلی وزیر البانی کے لیے اقوام متحدہ سے برطرفی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

واضح رہے انہیں اقوام متحدہ نے مئی 2022 سے فلسطین کے لیے نمائندہ مقرر کیا تھا۔ وہ اٹلی سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک ماہر قانون ہیں۔ اسرائیل کے سات اکتوبر کے بعد سے اقوام متحدہ کے اداروں اور نمائندوں سے معاملات خراب کر رکھے ہیں۔

اسرائیلی وزراء نے یہاں تک کہنا شروع کر دیا ہے کہ' اگر اقوام متحدہ کو اسرائیل کے ساتھ دوبارہ بحالی کے تعلق میں بطور ایک ادارہ واپس آنا ہے تو اسے چاہیے کہ بر سر عام اپنی اس نمائندہ کے یہود مخالفت بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرے اور اسے فوری برطرف کردے۔'

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' نے اس سلسلے میں البانی سے رابطہ کیا مگر انہوں نے اسرائیلی ویزے سے انکار پر فوری طور پر کسی تبصرے سے گریز کیا ہے۔ خیال رہے اسرائیل کے ویزے سے انکار کی وجہ سے البانی کو مغربی کنارے میں داخلے کی بھی اجازت نہیں مل سکے گی۔

البتہ البانی نے ' ایکس' میں 1948 کے نکبہ میں ملوث لوگوں سے خوفزدہ ہونے سے انکار کرتی ہوں۔' واضح رہے اس سے قبل وہ فرانسیسی صدر کے سات اکتوبر کے حملے کو یہود مخالفت کا نتیجہ قرار دیے جانے پر مایوسی ظاہر کرتی رہی ہیں۔ وہ غیر مبہم موقف رکھتی ہیں کہ یہود مخالفت عالمی خطرہ سمجھتی ہیں مگر اس طرح کے واقعات کو یہود مخالفت قرار دینا اس خطرے کو دھندلا دینے کے مترادف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں