فلسطین اسرائیل تنازع

رفح میں اسرائیلی جارحیت پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکوٹر کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکوٹر نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں رفح میں جاری صورتحال پر گہری تشویوش کا اظہار کیا ہے۔ پراسیکوٹر کے مطابق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے حال ہی میں جنوبی افریقہ کی درخواست پر اسرائیل کو نسل کشی سے روکنے کے لیے حکم دیا تھا۔ اب پراسیکوٹر جنرل کا عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد یہ بیان کافی اہم ہے۔ کیونکہ پراسکیوٹر جنرل نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے شائع کردہ ایک بیان میں پراسکیوٹر کریم خان نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری صورتحال کی تحقیقات میرا دفتر پوری صورت کے ساتھ کر رہا ہے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اس ذمہ دار نے غزہ میں اسرائیل کی مسلسل بمباری کے واقعات اور ہلاکتوں کے بارے میں کہا 'مجھے غزہ اور رفح میں مسلسل بمباری کی خبروں اور اسرائیل کی طرف سے امکانی زمینی مداخلت کے بارے میں گہری تشویش ہے۔'

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2021 میں اسرائیل اور حماس کے بارے میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ تحقیقات کا یہ دائرہ دیگر مسلح تنظیموں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔

کریم خان نے بتایا کہ 2021 میں شروع ہونے والی تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دائرے میں دشمنی و مخاصمت پر مبنی کارروائیوں اور پرتشدد واقعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کریم خان نے کہا 'تمام جنگوں کے قوانین ہوتے ہیں۔ مسلح تصادم سے متعلق قوانین کی تشریح نہیں کی جاسکتی کہ اس سے یہ قوانین بےمعنی ہوجاتے ہیں۔ یہ بات میں نے رام اللہ میں بھی کہی تھی اور یہ بات میں مستقل کہہ رہا ہوں کہ اسرائیل کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی جارہی۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں