کسانوں کا نئی دہلی کی طرف احتجاجی مارچ، بھارتی پولیس کا آنسو گیس حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد فصلوں کی کم از کم قیمت کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں کسانوں نے دارالحکومت نئی دہلی کی طرف مارچ کیا جسے روکنے کے لیے بھارتی سکیورٹی فورسز نے منگل کو آنسو گیس سے حملہ کر دیا۔

مقامی نشریاتی اداروں نے دارالحکومت سے تقریباً 200 کلومیٹر (125 میل) شمال میں امبالا کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائر کیے گئے آنسو گیس کے گھنے بادل ٹی وی پر دکھائے جبکہ پولیس نے ڈرون کے ذریعے ہوا سے کنستر بھی گرائے۔

پولیس نے آس پاس کی تین ریاستوں سے نئی دہلی کی طرف جانے والی شاہراہوں پر دھاتی اسپائکس، سیمنٹ اور سٹیل کی رکاوٹوں کی مدد سے خوفناک ناکہ بندی کر دی ہے۔

دہلی پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر رانجے اتریشیا نے اے ایف پی کو بتایا کہ "سپاہی زیادہ سے زیادہ تعداد میں تعینات کر دیئے گئے ہیں۔"

شہر میں پانچ سے زائد افراد کے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ہندوستان میں بڑی تعداد کی وجہ سے کسانوں کا ایک سیاسی حجم ہے اور ممکنہ طور پر اپریل میں شروع ہونے والے قومی انتخابات سے قبل نئے مظاہروں کا خطرہ ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کے 1.4 بلین لوگوں میں سے دو تہائی اپنا روزگار زراعت سے حاصل کرتے ہیں جو ملک کے جی ڈی پی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔

کسانوں نے جنوری 2021 کی مانند "دہلی چلو" یا "دہلی کی طرف مارچ" کا مطالبہ کیا ہے جب کسانوں نے اس وقت اپنے سال بھر کے احتجاج کے دوران یومِ جمہوریہ کے موقع پر رکاوٹیں توڑ کر شہر میں مارچ کیا تھا۔

’احتجاج جاری رہے گا‘

پنجاب میں کسانوں کی یونین کے ایک اعلیٰ عہدیدار سرون سنگھ پنڈھر نے صحافیوں کو بتایا، "کسان پرامن ہیں لیکن ڈرون کے ذریعے ہمارے خلاف آنسو گیس استعمال کی جا رہی ہے۔"

"جب تک حکومت ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتی احتجاج جاری رہے گا۔"

ہندوستانی نشریاتی اداروں نے پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کی آس پاس کی ریاستوں سے دارالحکومت کی طرف بڑھتے ہوئے سینکڑوں ٹریکٹروں کی قطاریں دکھائیں جن میں سے کچھ اپنی مشینوں کا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا رہے تھے۔

ٹریکٹروں میں کسانوں نے دیہی علاقوں میں جانے کی کوشش کی ہے جہاں سڑکوں کو صاف نہیں کیا جا سکا۔

اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے دہلی کے مضافات میں غازی پور میں پولیس کو سڑکیں بند کرتے ہوئے دیکھا جس میں ناکہ بندی کی متعدد لائنیں تھی۔ کانٹے دار تار کا استعمال کرتے ہوئے دفاع کی پہلی لائن قائم کی گئی، پھر دھاتی رکاوٹیں، کنکریٹ کے بلاکس اور آخر میں پولیس بسیں۔

دہلی سے متصل ریاست ہریانہ کی پولیس نے کہا کہ انہوں نے "مضبوط انتظامات" کیے تھے اور ایک بیان میں مزید کہا صورتِ حال "قابو میں ہے۔"

کسانوں کی بات سنو

کسان قرض معاف کرنے سمیت دیگر رعایتوں کے علاوہ اپنی فصلوں کی کم از کم قیمت مقرر کرنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہریانہ سے کئی احتجاج کرنے والے کسان آئے ہیں جہاں کے حزبِ اختلاف کانگریس کے رکن پارلیمنٹ رندیپ سرجے والا نے کہا، "حکومت کو کسانوں کے خلاف آنسو گیس کے گولوں اور بندوقوں کا استعمال کرنے کے بجائے ان کی بات سننی چاہیے۔"

نومبر 2020 میں زرعی اصلاحات کے بل کے خلاف کسانوں کا احتجاج ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا تھا جو 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گیا۔

اس کے بعد دسیوں ہزار کسانوں نے عارضی احتجاجی کیمپ لگائے جبکہ مظاہروں کے دوران کم از کم 700 افراد مارے گئے۔

مظاہرے شروع ہونے کے ایک سال بعد نومبر 2021 میں مودی نے پارلیمنٹ کے ذریعے تین متنازعہ قوانین کو منسوخ کرنے پر زور دیا جن کے بارے میں کسانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی وجہ سے نجی کمپنیاں ملک کے زرعی شعبے کو کنٹرول کرتی رہیں گی۔

غربت، قرضوں اور آب و ہوا کی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے غیر یقینی موسمی حالات سے فصلوں کا متأثر ہونا۔۔ ہر سال ہزاروں ہندوستانی کسان ان وجوہات کی بنا پرخودکشی کر لیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں