انقرہ کو F-16 طیارے دینے کی منظوری کیا امریکہ ۔ ترکیہ اختلافات کے خاتمے کا اشارہ ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دو دن پہلے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ترکیہ کو F-16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے کانگریس کے فیصلے کی باضابطہ طور پر منظوری دی تھی، جس کا اعلان امریکی سفیر جیف فلیک نے "ایکس" پلیٹ فارم پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ "کانگریس کا ترکیہ کو 40 F-16 طیاروں اور 79 لڑاکا طیاروں کے اجزاء کی فراہمی کا فیصلہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔

کانگریس کی منظوری امریکہ اور ترکیہ کے درمیان کئی مہینوں کے مذاکرات کے بعد سامنے آئی۔ 26 جنوری کو واشنگٹن نے 23 ارب ڈالر کے اس معاہدے کی منظوری دی تھی۔ انقرہ کی جانب سے سویڈن کی نیٹواتحاد میں شمولیت کے تین دن بعد امریکا کی طرف سے ترکیہ کو اس نوعیت کے جدید ترین طیارے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

امریکی کانگریس کو جنگی طیاروں کے حوالے سے ترکیہ کی درخواست کے بارے میں جنوری کے اواخر میں اسی دن مطلع کیا گیا تھا۔ اسے مسترد کرنے کے لیے 15 دن کا وقت تھا مگرایسا نہیں ہوا۔ دو روز قبل اس معاہدے کی باضابطہ طور پر منظوری دی تھی جس کا انکشاف ترکیہ میں امریکی سفیر نے کیا تھا؟۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار اور یونیورسٹی کے پروفیسر بلال سمبورجو انقرہ یونیورسٹی میں فیکلٹی کے عہدے پر فائز ہیں نے کہا کہ “ترک حکومت اس معاہدے سے بہت خوش ہے، لیکن F-16 معاہدے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ترکیہ اور امریکا کے درمیان ہنی مون پیریڈ شروع ہوگیا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "دونوں ممالک اپنے علاقائی اور بین الاقوامی مفادات اور بیرونی بحرانوں میں دونوں کی پوزیشن کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات جاری رکھیں گے"۔

سیاسی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ "امریکہ اس معاہدے کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ترک حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے کام کرے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ انقرہ آنے والے وقت میں اپنی حکمت عملی کا تعین کرنے کے لیے کیسا برتاؤ کرے گا۔ امریکہ یہ دیکھے گا کہ آیا وہ نیٹو کے ایک حقیقی رکن کے طور پر کام کر رہا ہے یا ایک مختلف سمت میں کام کرتا ہے"۔

پروفیسر سمبور نے کہا کہ ترک حکومت جنگی طیاروں کے معاہدے کے بعد اپنی خارجہ پالیسیوں سے متعلق تبدیلیاں کرے گی جو واشنگٹن کے ساتھ کئی مہینوں کی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ "امریکہ ترکیہ سے توقع کرتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے بحرانوں کے حوالے سے اس کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ اس معاہدے کے بعد ترکیہ اپنے امریکہ مخالف موقف کے لیے کوئی اور بہانہ استعمال نہیں کر سکتا"۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ اس وقت تک لڑاکا طیاروں کو فروخت کرنے پر راضی نہیں ہوا جب تک کہ اسے ترکیہ سے نیٹو میں سویڈن کے الحاق کی توثیق کرنے کے لیے ٹھوس شکل میں ضمانت نہیں ملی۔ یہ ضمانت س معاہدے تک پہنچنے سے پہلے ہونے والے مذاکرات کی انتہائی حساس نوعیت کی عکاسی کرتی ہے

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے سویڈن کی اس اتحاد میں شمولیت کو 20 ماہ کے لیے موخر کر دیا تھا اور یہ شرط عائد کی کہ امریکا پہلے اسے ایف 16 طیارے فروخت کرے۔

ترک پارلیمنٹ نے گذشتہ جنوری کے آخر میں سویڈن کو نیٹو میں شامل ہونے کی منظوری دی تھی جو تقریباً ایک سال تک مخالفت کے بعد دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں