عصمت دری کے واقعات میں اضافے کے بعد سوڈانی خواتین کومسلح کرنے کا پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں جاری خانہ جنگی میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد فوج نے خواتین کو مسلح کرنے اور اسلحےکی تربیت دینے کا پروگرام شروع کیا ہے۔

فوج کی جانب سے پورٹ سوڈان میں خواتین کو ہتھیار اٹھانے کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنےدفاع میں بندوق استعمال کر سکیں۔

خواتین کی عسکری تربیت انہیں با اختیار بنانا نہیں بلکہ ان کے دفاع کا یہ آخری سہارا ہے۔پورٹ سوڈان شہر میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والی گھریلو خواتین، اساتذہ اور طالبات کو ایک تربیتی کیمپ میں ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ [آر ایس ایف] کے خلاف عسکری تربیت کے لیے بلایا گیا ہے۔

سوڈان میں مہینوں سے جاری کشیدگی، دارالحکومت خرطوم اور ملک کے مغرب میں دارفور کے علاقے میں عصمت دری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ملک کے دوسرے علاقوں میں خواتین میں خوف کی فضا طاری ہے۔

اس تشویش نے خواتین کو تربیتی کیمپوں میں رضاکارانہ طور پر ہتھیار استعمال کرنے پر آمادہ کیا۔ سوڈانی فوج انہیں AK47 اسالٹ رائفلیں استعمال کرنے کی تعلیم اور تربیت دے رہی ہے۔

خواتین کو تربیت دینے کے لیے ان خصوصی کیمپوں کے قیام کا خیال فوج کے کمانڈر انچیف عبدالفتاح البرہان کی جانب سے ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف انہیں متحرک کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی بنیاد پر آیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سوڈان کے دونوں متحارب فریقین پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہےہیں۔

برطانوی ٹیلی ویژن "اسکائی نیوز" نیٹ ورک کے مطابق "جنگی تربیت میں شامل ہونے کے لیے خواتین کے محرکات مختلف ہیں۔ ان میں سے کچھ اپنے بھرتی ہونے والے بیٹوں اور والد کے ساتھ وفاداری کے باعث سامنے آئیں جو جاری جنگ کے دوران ملک بھر میں تعینات ہیں۔

نیٹ ورک نے مشرقی سوڈان کے ساحلی شہر پورٹ سوڈان کے ایک کیمپ میں زیر تربیت ایک ٹرینی کے حوالے سے کہا کہ "عصمت دری کی سطح ناقابل تصور ہے۔ ہم ان کیمپوں میں ایسی لڑکیوں سے ملے ہیں جن کی عصمت دری کی گئی تھی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں