فرانس کا پرتشدد اسرائیلی آباد کاروں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ

چند آباد کاروں کے خلاف مغربی پابندیوں سے فلسطینیوں کو معمولی فائدہ ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کی وزارت خارجہ نے منگل کو کہا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملوں کے الزام میں 28 اسرائیلی آباد کاروں پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا، "یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ مہینوں میں فلسطینی آبادی کے خلاف آباد کاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ فرانس اس ناقابلِ قبول تشدد کی سخت مذمت کرتا ہے۔"

اس بیان میں مذکورہ آبادکاروں کے نام بیان نہیں کیے گئے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے اور غزہ کے فلسطینی علاقے پر اسرائیل کے جوابی حملے کے بعد سے آبادکاروں کے روزانہ حملوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔

جبکہ بین الاقوامی توجہ حماس کے سرحد پار حملے اور اس کے نتیجے میں وہاں جوابی اسرائیلی حملے پر مرکوز ہے تو یورپی حکام نے بھی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش ظاہر کی ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے اور پہلے ہی متعدد آباد کاروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ تشدد کے ذمہ دار ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے دسمبر میں کہا تھا کہ وہ بھی ایسے ہی اقدامات تجویز کریں گے۔

آبادکاروں پر پابندیوں کا فلسطینیوں کو معمولی فائدہ

سیاسی تشدد کے الزام میں کچھ یہودی آباد کاروں کے خلاف امریکی، برطانوی اور فرانسیسی پابندیوں سے مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو بہت کم سکون ملا ہے، جو کہتے ہیں کہ اس طرح کے حملے جاری رہتے ہیں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز یا تو کھڑی دیکھتی رہتی ہیں یا اس میں ساتھ شامل ہوتی ہیں۔

پہاڑی کی چوٹی پر واقع ایک گاؤں میں ایک سوختہ گاڑی اور ایک گھر کی جھلسی ہوئی چھت رہائشیوں کے اس بیان کا ثبوت ہیں کہ پیر کی شام ایک قریبی بستی کے 20 سے 30 آدمیوں پر مشتمل گروہ نے وہاں حملہ کیا۔

انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے پولیس، ایتامر بین گویر نے لندن پر "سنگین اخلاقی انحطاط" کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے جن آباد کاروں پر پابندی عائد کی ہے، ان میں سے ایک غزہ میں ایک سپاہی کے طور پر لڑتے ہوئے زخمی ہوا ہے۔

فلسطینیوں میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ایک اسرائیلی گروپ بتسلیم نے کہا کہ حال ہی میں آباد کاروں کے تشدد میں کمی آئی ہے۔

اسرائیل کہتا ہے کہ وہ زمین کے ناجائز استعمال کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ فلسطینی کہتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور یاد رہے کہ اکثر سرکاری لائسنس کے بغیر بستیوں میں توسیع کر دی جاتی ہے - اور وہ کہتے ہیں کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ اسرائیلیوں کا زمین پر کنٹرول ہونا ہی نہیں چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں