ماہ صیام کا آغاز، روزے کے طویل اور مختصر ترین اوقات کے بارے میں جانیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سال 1445ھ (2024ء) کے لیے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے آغاز کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ عالم اسلام ماہ صیام کی آمد کا انتظار کر رہا ہے۔ ان فلکیاتی پیشین گوئیوں کےمطابق اس سال رمضان المبارک کا مہینہ عرب ممالک میں پیر مارچ 11 کو شروع ہونے والا ہے۔ اس سال رمضان کا مہینہ 30 کا ہوسکتا ہے۔

فلکیاتی حسابات بتاتے ہیں کہ 9 اپریل بہ روز منگل 30 رمضان المبارک کوماہ مقدس کا اختتام ہوگا۔ یکم شوال عید الفطر کا پہلا دن ہوگا 10 اپریل بروز بدھ ہوگا۔ تاہم یہ تاریخیں نئے مہینے کے ایام کے حساب سے ہوں گی۔

جہاں تک اس سال روزے کے متوقع اوقات کا تعلق ہے اس کا تعلق دن کی طوالت سے ہے جس کا انحصار عرض بلد پر ہے۔جو ملک قطب شمالی سے جتنا قریب ہے سال کے اس وقت اس کے روزے کے اوقات اتنے ہی لمبے ہوتے ہیں اور جو ممالک خط استوا سے جتنا زیادہ جنوب میں ہے اس میں دن اتنے ہی چھوٹے ہوتے ہیں۔

توقع ہے کہ ہمارے عرب خطہ بشمول مصر، سعودی عرب، قطر، امارات، کویت، بحرین، سلطنت عمان میں رمضان کے بابرکت مہینے کے پہلے دن روزے کے اوقات 13 گھنٹے سے کچھ زیادہ ہوں گے۔ اردن، شام، لبنان، فلسطین، نیز ترکیہ، ایران اور دوسرے ممالک میں چند منٹ کا فرق ہوگا۔

جزائر قمر میں سب سے کم روزے کے اوقات 13 گھنٹے 4 منٹ ریکارڈ کیے جائیں گے، جب کہ مراکش کے رباط میں سب سے طویل دن 14 گھنٹے 23 منٹ ریکارڈ کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے ایمریٹس آسٹرونومی سوسائٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ابراہیم الجروان نے وضاحت کی کہ آئندہ ماہ رمضان میں روزے کا دورانیہ سالوں میں سب سے کم ہوگا کیونکہ سردیوں میں دن کی طوالت میں کمی آئے گی جو روزے کی مدت میں کمی کا باعث بنے گی۔

الجروان نے توقع ظاہر کی کہ ماہ مقدس کے آغاز میں روزے کا دورانیہ 13 سے 14 گھنٹے کے درمیان ہوگا، جو حالیہ برسوں میں سب سے کم وقت ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ رات کی طوالت اگلے مارچ کی 15 اور 16 تاریخ کو دن کے برابر ہوگی اور مشرق اور مغربی حصوں کے درمیان روزہ اور افطار کے اوقات میں 18 سے 20 منٹ کا فرق ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں