موساد، سی آئی اے کی قیادت کے یرغمالیوں کی رہائی بارے مصری و قطری کے حکام سے مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی یرغمالیوں کی تحریک حماس کی قید سے رہائی کے لیے فریقین میں ثالثی کی کوششیں منگل کے روز بھی جاری رہیں۔ اس سلسلے میں امریکی سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز، اسرائیلی موساد کے چیف ڈیوڈ بارنیا اور قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے مصری حکام کے ساتھ قاہرہ میں ملاقات کی ہے۔

اس دوران 28 جنوری کو پیرس میں مرتب کی گئی تجاویز کے سلسلے میں حماس کے 'ریسپانس' کا جائزہ لیا گیا تاکہ حماس کی طرف سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے پیش کردہ شرائط پر غور بھی کیا جا سکے۔ زیر غور تجاویز میں غزہ میں جنگ بندی کا نکتہ بھی مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ نیز غزہ کے بے گھر ہوچکے 23 لاکھ کے لگ بھگ فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی بلا تعطل ترسیل بھی اہم ہے۔

مصری خبر رساں ادارے قاہرہ نیوز کے مطابق یہ مذاکراتی مرحلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی برادری کا غزہ میں جنگ بندی کرنے کے لیے دباؤ بہت بڑھا ہوا ہے۔ خود امریکہ یو رپ کے علاوہ اسرائیل کے اندر بھی جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی آوازیں مضبوط ہو رہی ہیں۔

ادھر غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ چار ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 28 ہزار سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں ۔ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل کیے گئے ان 28 ہزار میں سب سے بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور فلسطینی عورتوں کی ہے۔

تاہم اسرائیلی بمباری میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ یہ پہلے کی طرح اب بھی شدید تر انداز میں جاری ہے۔ اسرائیل نے ان دنوں رفح شہر کو اپنی بمباری کے خصوصی ہدف کے طور پر سامنے رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں