جنوبی افریقہ عالمی عدالت انصاف میں حماس کی حمایت کررہا ہے: اسرائیل کا بیان

مقدمے کے بنیادی نکتے پر فیصلہ تاحال باقی ہے کہ نسل کشی ہوئی یا نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا، جنوبی افریقہ کی جانب سے جنوبی غزہ میں اسرائیل کے ممکنہ حملے کے خلاف عالمی عدالت میں تازہ ترین درخواست حماس کی مدد اور حمایت کرتی ہے اور یہ اسرائیل کو اس کے دفاع سے روکنے کی کوشش ہے۔

جنوبی افریقہ نے منگل کے روز بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) سے اس بات پر غور کرنے کی استدعا کی کہ اسرائیل کا غزہ میں اپنی جارحیت رفح شہر تک بڑھانے کا جو منصوبہ ہے، آیا اس حوالے سے فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اضافی ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ رفح میں اپنے زمینی حملے کو وسعت دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے جہاں دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں نے پناہ حاصل کر رکھی ہے کیونکہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی کا زیادہ تر حصہ تباہ ہو چکا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان لیور ہیات نے کہا، "جنوبی افریقہ حماس دہشت گرد تنظیم کے مفادات کی نمائندگی کرتا رہتا ہے اور اسرائیل کو اپنے اور اپنے شہریوں کے دفاع کے بنیادی حق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔"

جنوبی افریقہ کی جانب سے لائے گئے ایک مقدمے کے فیصلے میں آئی سی جے نے گذشتہ ماہ اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے فوجیوں کو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے ارتکاب سے روکنے کے لیے اپنے اختیار کے اندر تمام اقدامات کرے۔

ہیات نے ایکس پر کہا، "اسرائیل بین الاقوامی قانون کی پاسداری بشمول انسانی امداد کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے اور بے گناہوں کو نقصان سے بچانے کے لیے پرعزم ہے جبکہ حماس کے دہشت گرد غزہ کی پٹی میں شہری آبادی کے پیچھے چھپے ہیں اور 134 افراد کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔"

اسلام پسند مسلح گروپ حماس جس نے اسرائیل کی تباہی کی قسم کھائی ہے، اسرائیل نے اس کے خلاف اپنی جنگ کے سلسلے میں نسل کشی کے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کیس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدالت سے کہا ہے کہ وہ اسے یکسر مسترد کر دے۔

عدالت نے تا حال جنوبی افریقہ کی طرف سے لائے گئے مقدمے کی بنیاد پر فیصلہ نہیں دیا ہے - کہ آیا غزہ میں نسل کشی ہوئی ہے۔ لیکن اس نے غزہ میں فلسطینیوں کے اس حق کو تسلیم کیا کہ وہ نسل کشی کی کارروائیوں سے محفوظ رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں