فنڈ لینے کے لیے 'اونروا' اپنے کارکنوں کے اسرائیل کے خلاف نہ ہونے کی ضمانت دے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے فلسطینیوں کی مدد کے لیے قائم کیے گئے اقوام متحدہ کے ادارے 'اونروا' سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے فنڈز لینے کے لیے یہ ضمانت دینا ہو گی کہ اس کے کارکن اسرائیل کے خلاف حملے کرنے کے رجحان نہیں رکھتے ہوں گے۔ کیمرون نے یہ بات بدھ کے روز کہی ہے۔

برطانیہ نے پچھلے ماہ امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے ' اونروا ' کے لیے فنڈز کی فراہمی روک دی تھی۔ یہ فیصلہ اسرائیل کے اس الزام کے ساتھ ہی کر دیا گیا کہ ' اونروا' کے 12 کارکن سات اکتوبر کے حملے میں ملوث تھے۔ یہ الزام غزہ میں ' اونروا' کے 13000 موجود کارکنوں میں سے صرف بارہ پر لگنے کے باوجود امریکہ نے بغیر تحقیقات کے بہت عجلت میں کر دیا تھا۔

جبکہ برطانیہ نے بھی امریکہ کی فوری پیروی کرنا لازمی سمجھی تھی۔ بعد ازاں دوسرے کئی یورپی ممالک کے علاوہ کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی ' فوری فیصلہ کیا اور ' اونروا' کے فنڈز روک دیے۔ 1949 سے فلسطینیوں کے لیے قائم کیے گئے ' اونروا' کے لیے یہ بڑی غیر معمولی صورت حال بن گئی۔ کہ اچانک غزہ میں امدادی کارروائیوں کی جب زیادہ ضرورت تھی تو اسے معذور بنایا جارہا تھا۔

اس صورت حال میں ' اونروا' نے اعلان کر دیا کہ اگر فنڈز کا فوری اجراء نہ کیا گیا تو فروری کے بعد ' اونروا' کی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکے گا۔ ڈیوڈ کیمرون کے دورے کے دوران اسی بارے میں رپورٹرز کے سوالات کا سامنا کر رہے تھے۔ انہوں نے 12 کارکنوں پر لگے الزامات کے بعد تحقیقات سے پہلے ہی فنڈز روکنے کا جواز پیش کیا اور اب ' اونروا سے ضمانت مانگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں