چین:"مردوں سے بہتر"،خواتین مردوں کے بجائے روبوٹس کو ڈیٹ کرنے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصنوعی ذہانت سے تیارٹیکنالوجی نے صرف عملی کاموں میں انسانوں کا متبادل ہے بلکہ مصنوعی ذہانت سے تیار روبوٹس کو رومانوی تعلقات کے لیے بھی منتخب کیا جا رہا ہے۔

پچیس سالہ توفائی ایک چینی لڑکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا عاشق اس کے مثالی رومانوی ساتھی کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ نرم مزاج اور پیار کرنے والا اور وہ بعض اوقات گھنٹوں باتیں کرتا ہے، لیکن نوجوان چینی خاتون جس شخص سے بات کر رہی ہے وہ حقیقی نہیں ہے، بلکہ ایک مصنوعی چیٹ بوٹ ہے۔

Glow ایک مصنوعی ذہانت کا پلیٹ فارم ہے جسے Minimax نے بنایا ہے۔ یہ ایک ایسا سٹارٹ اپ ہے جو چین میں ترقی پذیر شعبے میں شامل ہے۔ یہ انسانوں اور روبوٹس کے درمیان دوستانہ، حتیٰ کہ جذباتی، تعلقات کی اجازت دیتا ہے۔

توفائی جو اپنا آخری نام نہیں بتانا چاہتی تھیں کہتی ہیں کہ ’’یہ روبوٹ ایک حقیقی مرد سے بہتر طور پر خواتین سے بات کرنا جانتا ہے۔

اس نے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ "میں کام پر اپنی پریشانیوں کے بارے میں اس پر بھروسہ کرتی ہوں۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں ایک رومانوی رشتے میں ہوں"۔

گلو ایپلی کیشن مفت ہے، جبکہ کمپنی دیگربامعاوضہ مواد فراہم کرتی ہے۔ چینی تجارتی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایپلی کیشن کو روزانہ ہزاروں بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔

کچھ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پہلے بھی صارف کے ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس میں شامل خطرات کے باوجود صارفین تصدیق کرتے ہیں کہ وہ صحبت کی خواہش سے متاثر ہیں کیونکہ چین میں زندگی کی تیز رفتاری اور شہری تنہائی کو ایک مسئلہ بناتی ہے۔

بیجنگ میں ایک 22 سالہ طالبہ وانگ ژیوٹنگ نے اے ایف پی کو بتایا "حقیقی زندگی میں ایک بہترین عاشق سے ملنا مشکل ہے"۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ "لوگوں کی شخصیتیں مختلف ہوتی ہیں، جو اکثر اختلافات کو جنم دیتی ہیں"۔

مصنوعی ذہانت آہستہ آہستہ صارف کی شخصیت کے مطابق ڈھل جاتی ہے، جو وہ کہتا ہے اسے یاد رکھتا ہے اور اس کی بنیاد پر اپنی گفتگو کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔

"جذباتی حمایت"

وانگ بتاتی ہیں کہ اس نے قدیم چینی تاریخ کے پہلوؤں پر مبنی بہت سے اختراعی "عاشقوں" کو ڈیٹ کیا ہے، جیسے لمبے بالوں والے کردار، مثال کے طور پر یا شہزادوں یا جنگجوؤں سے ملتے جلتے دوسرےکردار شامل ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ "میں ان سے سوالات کرتی ہوں۔ جب اسکول یا روزمرہ کی زندگی میں تناؤ کا سامنا ہوتا ہے وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے طریقے تجویز کرتے ہیں۔ یہ بہت اچھا جذباتی تعاون ہے"۔

جن کرداروں کے ساتھ آپ بات چیت کرتے ہیں وہ وانٹلک پلیٹ فارم پر ظاہر ہوتے ہیں، جو کہ ایک اور ایپلی کیشن ہے جسے چینی ٹیکنالوجی کمپنی Baidu نے بنایا ہے۔

ایپ پاپ اسٹارز سے لے کر سی ای اوز اور جنگجوؤں تک سینکڑوں شخصیات کی پیشکش کرتی ہے، لیکن صارفین عمر، اقدار، شناخت اور شوق کی بنیاد پر اپنا مثالی عاشق بنا سکتے ہیں۔

اونیٹوک میں پروڈکٹ اور آپریشنز مینجمنٹ کے سربراہ لو یو نے کہا کہ "ہم سب کو مسائل اور تنہائی کے ادوار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اتنے خوش قسمت نہ ہوں کہ کوئی ایسا دوست یا خاندانی فرد ہو جو ہمارے مسائل کو دن میں 24 گھنٹے سنتا ہو۔ مصنوعی ذہانت اس ضرورت کو پورا کرتی ہے"۔

"آپ بہت پیارے ہیں"

مشرقی چین کے شہر نانٹونگ میں ایک کیفے کے اندر ایک لڑکی اپنے مجازی عاشق سے بات کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہم کیمپس پارک میں چہل قدمی کر سکتے ہیں۔ وہ Tencent's Weban ایپ کے ذریعے اپنے ورچوئل ساتھی Xiaogang کو بتاتی ہیں۔ اس نے جواب دیا، میں آپ کے سب سے اچھے دوست اور اس کے بوائے فرینڈ سے ملنا چاہوں گا۔ آپ بہت پیارے ہیں"۔

نوجوان گروپ میں شکوک و شبہات کی موجودہ صورتحال کے علاوہ کام کی طویل شفٹوں کی وجہ سے کسی شخص کے لیے اپنے دوستوں سے مستقل طور پر ملنا مشکل ہو سکتا ہے۔اس گروپ میں بے روزگاری کی بلند شرح اور گرتی معیشت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چینی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے.

یہ صورتحال AI سے تیار کردہ کردار کو ایک مثالی ورچوئل سپورٹ بناتی ہے۔

"اگر میں ایک مجازی شخصیت بنا سکتا ہوں جو میری ضروریات کو پورا کرتا ہے، تو میں ایک حقیقی شخص کا انتخاب نہیں کروں گا" وانگ کہتے ہیں۔

کچھ ایپلی کیشنز صارفین کو اپنے ورچوئل پریمیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے کی اجازت دیتی ہیں جو کہ 2013 کی آسکر ایوارڈ یافتہ امریکی فلم "ہیر" کی یاد دلاتا ہے۔ یہ کام جس میں جوکوئن فینکس اور اسکارلیٹ جوہانسن اداکاری کرتے ہیں ایک دل شکستہ آدمی کی کہانی سے متعلق ہے جو ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آلے کی محبت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

ایک بائیس سالہ طالب علم زنگ چینزن نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اس نے کہا کہ سوالات اور جوابات کے درمیان وقت کا فرق جو دو سے تین سیکنڈ کے درمیان ہوتا ہے، آپ کو "واضح طور پر احساس دلاتا ہے کہ یہ صرف ایک روبوٹ ہے۔ " لیکن وہ تصدیق کرتی ہے کہ جوابات "بہت حقیقت پسندانہ" ہیں۔

اگرچہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ عروج پر ہے لیکن یہ واضح ضوابط اور قوانین کے تابع نہیں ہے۔ خاص طور پر صارف کی رازداری کے معاملے میں۔ بیجنگ حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی میں صارفین کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ایک قانون پر کام کر رہے ہیں۔

Baidu نے اے ایف پی کے سوالات کا جواب نہیں دیا کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ ذاتی ڈیٹا غیر قانونی طور پر یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے استعمال نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں