مصر رفح میں لاجسٹک زون کیوں قائم کررہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شمالی سیناء کے گورنر میجر جنرل ڈاکٹر محمد عبدالفضیل شوشہ نے اعلان کیا ہے کہ مسلح افواج غزہ کی امداد جمع کرنے کے لیے رفح کے علاقے میں ایک لاجسٹک ازون قائم کر رہی ہیں، تاکہ العریش میں ڈرائیوروں اور ہجوم کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور سڑکوں پر مصری ہلال احمر کے کام کو آسان بنایا جا سکے۔

گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ جو علاقہ تعمیر اور آراستہ کیا جا رہا ہے اس میں ٹرکوں کے لیے پارکنگ ایریا، محفوظ گودام، انتظامی دفاتر اور ڈرائیوروں کے لیے رہائش شامل ہے۔

عبدالفضیل شوشہ نے کہا کہ مسلح افواج مصری ہلال احمر کے کام میں سہولت فراہم کرنے کے علاوہ العریش اور سڑکوں پر ڈرائیوروں اور ہجوم کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے رفح میں لاجسٹک زون قائم کر رہی ہیں۔

انہوں نے غزہ کی پٹی کے لیے زمینی، سمندری اور ہوائی راستے سے پہنچنے والی امداد کو رفح کراسنگ سے فلسطینی علاقے میں داخل کرنے کے لیے مزید سہولت فراہم کرنے پر زور دیا۔

بفر سکیورٹی زون

جمعہ کو شمالی سینائی کے گورنر نے اس بات کی تردید کی تھی کہ مصری حکام کی جانب سے مصری شہر رفح میں دیواروں سے گھرا ہوا ایک حفاظتی بفر زون تعمیر کیا گیا ہے تاکہ غزہ سے فلسطینی پناہ گزینوں کو وصول کیا جا سکے۔ بعض میڈیا ذرائع نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے رفح پر زمینی حملہ کیا تو وہاں سے لاکھوں فلسطینی کی نقل مکانی کرسکتے ہیں۔

شوشہ نے صحافیوں کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی سینا کے علاقوں، خاص طور پر رفح کی مصری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مسمار کیے گئے مکانات کی فہرست تیار کر رہی ہیں جس کا مقصد ان مکانات کے مالکان کو معاوضہ ادا کرنا ہے۔ اس کا غزہ کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔

گورنرشوشہ نے زور دے کر کہا کہ اگر اسرائیل فلسطینی رفح میں فوجی کارروائی کرتا ہے تو مصر تمام حالات کے لیے تیار ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 1.4 ملین افراد جن میں سے زیادہ تر جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوئے تھے رفح میں جمع ہیں، جو ایک بہت بڑے کیمپ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

اسرائیل رفح میں حماس کےخلاف ایک اور فوجی کارروائی کی تیاری کررہا ہے جس پر عالمی برادری کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں