آبنائے باب المندب میں ایک کارگو جہاز پر نیا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ایمبرے نے کہا ہے کہ بیلیز کا جھنڈا لہرانے والے ایک کارگو جہاز جو برطانیہ میں رجسٹرڈ ہے پر آبنائے باب المندب میں حملے کی اطلاع ملی ہے۔

رائیٹرز کے مطابق ایمبری نے ایک اور نوٹ میں کہا کہ یہ جہاز یو اے ای میں خور فاکن سے بلغاریہ کے ورنا کے سفر پر شمال کی طرف جا رہا تھا جب یہ حملہ ہوا۔

میمو میں کہا گیا ہے کہ "جزوی طور پر لدے ہوئے جہاز نے مختصر طور پر دس سے چھ ناٹ تک سست روی اختیار کی اور جیبوتی بحریہ سے رابطہ کرتے ہوئے واپس آنے سے پہلے راستے سے ہٹ گیا"۔

برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اعلان کیا کہ اسے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ یہ واقعہ یمن میں مخا کی بندرگاہ سے 35 ناٹیکل میل جنوب میں پیش آیا جہاز کے قریب دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں نقصان ہوا۔ اتھارٹی نے ایک نوٹ میں کہا کہ عملے کے تمام ارکان ٹھیک ہیں۔

اتھارٹی نے ایک بیان میں مزید کہا کہ حکام معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، اور علاقے سے گذرنے والے جہازوں کو مشورہ دیا کہ وہ محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔

قبل ازیں برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک اور یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اتوار کو غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافہ کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ انھوں نے بحیرہ احمر میں استحکام کی بحالی کے لیے بحری کارروائیوں کی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔

برطانوی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے ٹیلیفون کال کے دوران غزہ کی پٹی میں شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سوناک نے یورپی عہدیدار کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور شاہ عبداللہ کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت سے آگاہ کیا۔

برطانوی بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور وہاں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں