برطانوی ولی عہد کا مشرق وسطیٰ کی مشکل صورت حال پر پریشان، حل تلاش کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی تخت کے وارث [ولی عہد] شہزادہ ولیم کے دفتر نے منگل کے روز کہا ہے کہ وہ غزہ اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اپنے "انسانی مصائب کے اعتراف" کی عکاسی کرنے کے لیے متعدد سرگرمیاں کریں گے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر کوششیں کی جائیں گی۔

کینسنگٹن پیلس نے کہا کہ اکتالیس سالہ شہزادہ ولیم خطے میں انسانی امداد فراہم کرنے کے ذمہ دار اداروں اور افراد سے ملاقات کریں گے اور زمینی صورتحال کے بارے میں ان سے بریفنگ لیں گے۔

پرنس آف ویلز نفرت اور یہود دشمنی سے نمٹنے کے لیے کام کرنے والے وجوانوں سے بات کرنے کے لیے ایک عبادت گاہ کا دورہ کریں گے۔

سنہ 2018ء میں شہزادہ ولیم برطانوی شاہی خاندان کے سینیر ارکان کا پہلا فر ہیں جنہوں نے اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا سرکاری دورہ کیا تھا۔

اپنے والد کنگ چارلس کے ساتھ جو اس وقت کینسر کے علاج کے دوران سرکاری عوامی فرائض سے غیر حاضر ہیں ولیم سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کچھ ہائی پروفائل مصروفیات کریں گے۔ ان کی اہلیہ کیٹ بھی پیٹ کی سرجری سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔

ولیم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ "شہزادہ اور شہزادی 2023ء کے آخر میں پیش آنے والے واقعات سے گہری تشویش میں ہیں اور تمام متاثرین، ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو صورت حال پر نظر رکھنے کی تاکید کرتے ہیں‘‘۔

جنگ گذشتہ اکتوبرمیں اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل پر دھاوا بولا، جس میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ 253 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ کنگ چارلس نے اسے "دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائیاں" قراردیا تھا۔

اس کے بعد سے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری میں 28,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں