تُرکیہ میں موجود اخوان عناصر کا ترک شہریت کی فروخت کے دھندے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

رئیل اسٹیٹ میں ہیرا پھیری کی وجہ سے اخوان کے قائم مقام رہ نما محمود حسین سے ترک شہریت واپس لینے کے واقعے نے اس جماعت کے اندر ایک اور مافیا کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے جو اپنے اراکین اور دیگر افراد کو شہریتیں مہنگے داموں فروخت کرنے میں ملوث پایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترکیہ کی ایک شہریت فروخت کرنے کے بدلے میں 60,000 ڈالر تک کی رقم وصول کرتا رہا ہے۔

ذرائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو انکشاف کیا ہے کہ اخوان مافیا میں اس گروپ کے ایک سرکردہ عہدیدار کا بیٹا بھی شامل ہے جو 2013ء کے انقلاب کے بعد ترکیہ فرار ہو گیا تھا۔ اسے شمالی مصر کی دقلہلیہ گورنری میں تشدد اور دہشت گردی کے ایک مقدمے میں اس کی عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی تھی۔

اخوان عہدیدار کا فرزند

محمود حسین، استنبول محاذ پر اخوان کے قائم مقام رہنما
محمود حسین، استنبول محاذ پر اخوان کے قائم مقام رہنما

ذرائع نے وضاحت کی کہ اخوان کے ایک سرکردہ ذمہ دار کا بیٹا شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند لوگوں سے کاغذات اور طریقہ کار مکمل کرنے کے عوض 60,000 ڈالر وصول کر رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریت بیچنے سے اس شخص کی دولت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے اس کے پاس استنبول کے سب سے باوقار محلوں میں دو لگژری ریستوران اور ایک لگژری کار ہے۔

ذرائع نےبتایا کہ اخوان سے وابستہ میڈیا کے نامور پیشہ ور افراد اور اس کےعملے جن میں سے کچھ ترکیہ سے باہر رہتے ہیں اس مافیا میں ملوث تھے۔ انہیں 20,000 سے 40,000 ڈالر فی شہریت تک کی رقم ملتی تھی۔ یہ لوگ ترکیہ سے باہر موجود لوگوں کے لیے ترکیہ کی شہریت کی راہ ہموار کرنے میں مدد کرتے تھے۔

اس کے علاوہ ذرائع نے اشارہ کیا کہ وہ شہریت حاصل کرنے کے خواہشمندوں کے لیے رہائش حاصل کر رہے تھے۔

الإخوان مصر تركيا خاص العربية.نت
الإخوان مصر تركيا خاص العربية.نت

اخوان کے ماتحت رابطہ گروپ

ذرائع نے مزید کہا کہ اخوان سے وابستہ ایک انجمن شہریت کے اس شعبے میں بھی کام کر رہی تھی لیکن پچھلے معاہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسوسی ایشن کے اخراجات بشمول کرایہ، تنخواہ وغیرہ کو پورا کرنے کے لیے ترک حکام کے ساتھ شہریت حاصل کرنے کے عوض وہ اس تنظیم کو امریکی کرنسی [ڈالر] میں عطیات بھی دیتے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ ترک حکام نے اس سے قبل اخوان کے متعدد عہدیداروں کو مصر سے فرار ہونے والے تنظیم کے ارکان کی شہریت حاصل کرنے کے معاملے اور طے پانے والے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی سے متعلق کچھ حقائق کی چھان بین کے لیے طلب کیا تھا۔ گذشتہ برسوں قبل اخوان کے رہ نماؤں اور ترک وزارت داخلہ میں اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں بھی اس کا پتا چلتا ہے۔

ذرائع نے تصدیق کی کہ تحقیقات میں ترک شہریت حاصل کرنے والے افراد کے انتخاب اور اس کے مستحق افراد کو خارج کرنے میں جانبداری اورطرف داری ری کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع نے اس سے قبل العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انکشاف کیا تھا کہ محمود حسین سے شہریت واپس لینے کے بعد پہلی صف میں موجود کئی دیگر رہ نماؤں سے شہریت واپس لی جا سکتی ہے۔ان میں حسین کے دو سینیر معاونین بھی شامل ہیں۔

دریں اثنا، ذرائع نے اشارہ کیا کہ اخوان کے رہنما اس وقت ترک حکام پر حسین کو شہریت بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو تنظیم کے امور، کمپنیوں اور استنبول سے سرمایہ کاری کی نگرانی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں