فلسطین اسرائیل تنازع

سلامتی کونسل میں جنگ بندی قرارداد کو ویٹو کرنے کے بعد جوبائیڈن کا موقف بدلنے لگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریک صدر جوبائیڈن کے زیر قیادت امریکہ نے اقوام متحدہ میں ہر اس موقع پر غزہ میں جنگ بندی کی مخالفت کی جس سے جنگ کے رکنے کا امکان ہو سکتا تھا۔ تازہ واقعہ منگل کے روز ایک بار پھر اسی نوعیت کی قرارداد کو امریکہ کی جانب سے ویٹو کیے جانے کا ہے۔ لیکن اس قرا داد کے حق میں بھی پہلی قراردادوں کی طرح حمایت میں 13 ووٹ آئے تھے۔ لیکن امریکہ نے ویٹو کر دیا۔

امریکہ نے اسرائیل کی غزہ میں جنگ پر اقوام متحدہ کی کسی بھی کارروائی کے دوران لفظ جنگ بندی سے گریز کی کوشش کی۔۔ جو بائیڈن نے بدلتے موقف میں عارضی وقفے کا لفظ کا استعمال کیا ہے۔

اب ان کی رائے جنگ میں عارضی وقفے کی آنا شروع ہو گئی ہے۔ اس بارے میں مبصرین کی رائے میں فرق ہو سکتا ہے۔ کہ صدر جوبائیڈن کا نیا موقف محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہے یا حقیقتاً ان کی سوچ میں تبدیلی آرہی ہے۔ تاہم یہ یہ اہم ہے کہ اسرائیل رفح پر ایک بڑی جنگی یلغار کرنے جا رہا ہے تو ایسے میں امریکی صدر عارضی جنگ بندی کے آرزو مند ہیں۔

مگر یہ واضح ہے جوبائیڈن کے بیانیے میں قدرے فرق محسوس کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس چیز تک پہنچنے میں انہیں کئی ماہ کے انتظار سے گذرنا پڑا ہے۔ البتہ یہ اہم ہے کہ صدر جوبائیڈن اس موقف کے ساتھ اپنے ڈیمو کریٹک پارٹی کے ناقدین کے قریب آ سکتے ہیں اور دنیا بھر کے ان لوگوں کے بھی جو غزہ میں مزید کشت وخون نہیں دیکھ سکتے۔ کہ اب تک غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 30000 کو چھو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں