حوثیوں کی طرف سے اندھا دھند میزائل حملوں پر امریکہ کی طرف سے حوثیوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں جہازوں پر اندھا دھند اور بلاامتیاز کیے گئے تازہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کی یہ کارروائیاں دہشت گردانہ ہیں۔ امریکہ کی طرف سے اظہار مذمت بدھ کے روز کیا گیا ہے۔

حوثیوں کی طرف سے جہازوں پر حملے کا تازہ ترین واقعہ اسی ہفتے ہوا تھا۔ جب انہوں نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ ان جہازوں میں امریکی ملکیت کا بہت بڑا مال بردار جہاز بھی شامل تھا۔ جو مکئی اور دیگر غذائی اجناس لے کر یمن جا رہا تھا کہ راستے میں یمن کے حوثیوں نے اسے میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں امریکہ اور برطانیہ نے خلیج عدن، بحیرہ احمر اور یمن کی الحدیدہ بندرگاہ کے اڑوس پڑوس میں بھی حوثیوں کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے امریکہ اور اس کا سب سے اہم اتحادی برطانیہ دونوں مل کر کئی بار یمن پر حملے کر چکے ہیں تاکہ حوثیوں کے مراکز کو تباہ کر سکیں۔ اس کے باوجود حوثیوں کی حملہ کرنے کی صلاحیت برقرار ہے اور وہ آئے روز بحیرہ احمر میں امریکی، اسرائیلی اور دیگر مغربی ممالک کے جہازوں کو بطور خاص نشانہ بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

امریکہ نے حوثیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بحری جہاز 'گلیکسی لیڈرز' کے 25 رکنی عملے کو ابھی تک زیر حراست رکھا ہوا ہے۔ ان میں کم از کم پانچ مختلف ملکوں کے باشندے شامل ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اس صورتحال کو حوثیوں کی بحری قزاقی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا یہ دہشتگردی کی واردات ہے۔ اس کے جواب میں حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کے یہ حملے غزہ کے رہنے والے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہیں۔ جب تک اسرائیل غزہ میں جنگ بند نہیں کرتا حوثی یہ حملے کرتے رہیں گے۔

امریکی ترجمان ملر نے کہا 'حوثیوں کے ان حملوں کی وجہ سے دنیا میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مال برداری کی لاگت کے ساتھ ساتھ مال کی فراہمی کا دورانیہ بھی طوالت اختیار کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ اس سے انسانوں کی انتہائی بنیادی ضرورت کی اشیاء بھی ان تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں جن میں خوراک بھی شامل ہے۔'

میتھیو ملر کے مطابق 'حوثیوں کی وجہ سے جہاں جہاں انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے بشمول سوڈان، ایتھوپیا اور یمن یہ اشیاء پہنچانے میں غیرمعمولی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ غلہ اور خوراک سمیت باقی اشیاء بھی ان تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔' 'حوثیوں کے ان حملوں کے نتیجے میں بھی غزہ کے فلسطینیوں کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو رہا' امریکی ترجمان نے مزید کہا۔

واضح رہے غزہ میں اب تک 30 ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 70 ہزار کے قریب ہے۔ لیکن اسرائیل اس کے باوجود جنگ بندی پر تیار ہے نہ ہی غزہ کا محاصرہ بند کرنے پر کہ انہیں بنیادی ضروریات کی اشیاء کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ عالمی ادارے اس صورتحال کو غزہ کے لوگوں کے بھوکے مرنے تک پہنچا ہوا بیان کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں